تعز: یمن کے جنوب مغربی صوبے تعز میں گولہ باری کے مختلف واقعات میں تین شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے۔ انادولو ایجنسی کے مطابق تعز میں حکومت کے زیر انتظام آفس آف سیج افیئرز نے الزام عائد کیا کہ حوثی فورسز نے صوبے کے جنوبی ضلع صبر الموادم پر گولہ باری کی، جس میں دو خواتین سمیت تین افراد جان سے گئے۔ یہ تفصیل یمنی حکومتی دفتر کا بیان ہے اور حوثیوں نے ان مخصوص شہری ہلاکتوں کے الزام پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔

سرکاری دفتر نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت صفوان سعید عبید، آسیہ عبدالصمد سعید احمد اور صفیہ ہزاع سیف البعدانی کے نام سے کی۔ اسی بیان کے مطابق تعز کے جنوب میں الشقب اور مغربی علاقے عقیقہ میں الگ گولہ باری سے پانچ شہری زخمی ہوئے، جن میں دو خواتین شامل ہیں۔ زخمیوں کی طبی حالت کے بارے میں فوری تفصیلی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ شہری ہلاکتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب تعز کے مختلف محاذوں پر لڑائی میں شدت آئی ہے۔ یمنی فوج نے کہا کہ اس نے الشقب کے محاذ پر حوثیوں کا ایک بڑا حملہ پسپا کیا اور جھڑپیں تقریباً آٹھ گھنٹے جاری رہیں۔ فوجی بیان میں 16 حوثی جنگجوؤں کی ہلاکت اور دیگر کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم ان اعداد کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں موجود نہیں اور حوثیوں نے فوری طور پر فوج کے دعوؤں پر تبصرہ نہیں کیا۔

یمنی فوج نے یہ بھی کہا کہ اس نے تعز کے مغربی حصے میں حوثی پوزیشنوں، فوجی کمک، اسلحے اور سازوسامان کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا۔ دوسری جانب سعودی قیادت والے اتحاد نے الگ بیان میں کہا کہ اس نے شمال مغربی صعدہ میں حوثیوں کے دو بیلسٹک میزائل لانچ پلیٹ فارم تباہ کیے۔ خطے میں جاری کارروائیوں کے مختلف فریق اپنے فوجی نتائج کے دعوے جاری کر رہے ہیں، جن کی مکمل آزادانہ تصدیق جنگی حالات میں محدود ہے۔

یمن میں موجودہ فوجی کشیدگی جولائی سے نمایاں طور پر بڑھی ہے اور اسے اپریل 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد نسبتاً پرسکون دور کے مقابلے میں بڑا اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تعز طویل عرصے سے تنازع کا اہم محاذ رہا ہے، جہاں شہری آبادی گولہ باری، نقل مکانی اور بنیادی خدمات کی رکاوٹوں سے متاثر ہوتی رہی ہے۔ تازہ واقعہ ایک بار پھر شہری تحفظ اور جنگی کارروائیوں کے انسانی اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔