راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے کوئٹہ، نوشکی اور خضدار اضلاع میں تین الگ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران آٹھ دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی 18 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں 17 اکتوبر کو مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاعات پر کی گئیں۔ آئی ایس پی آر نے ہلاک افراد کو بھارت کی پشت پناہی رکھنے والے گروہ سے منسلک قرار دیا؛ یہ نسبت پاکستانی فوج کے سرکاری بیان کی ہے۔

فوجی بیان کے مطابق کارروائیوں کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ خضدار میں ہونے والی کارروائی میں 490 کلوگرام دھماکا خیز مواد کی برآمدگی کی اطلاع دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مواد مبینہ طور پر دہشت گرد سرگرمیوں میں استعمال کیا جانا تھا۔ رپورٹ میں آپریشنز کی مکمل تاکتیکی تفصیلات یا ہلاک افراد کی آزادانہ شناخت فراہم نہیں کی گئی، اس لیے کارروائی کے نتائج سے متعلق اعداد و نسبتیں آئی ایس پی آر کے بیان کے طور پر رپورٹ کی جا رہی ہیں۔

بلوچستان میں حالیہ عرصے کے دوران سکیورٹی فورسز نے متعدد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے ہیں، جبکہ صوبے میں عسکریت پسند حملوں اور سکیورٹی واقعات کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔ تازہ کارروائیاں تین مختلف اضلاع میں کی گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی سرگرمی ایک ہی مقام تک محدود نہیں تھی۔ آئی ایس پی آر نے کہا کہ علاقے میں ممکنہ مزید عناصر کی تلاش اور خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جا سکتی ہیں۔

پاکستانی حکام بلوچستان میں بعض مسلح گروہوں کے لیے بھارتی حمایت کا الزام عائد کرتے رہے ہیں۔ بھارت ایسے پاکستانی الزامات کی عمومی طور پر تردید کرتا آیا ہے۔ اس خبر میں کسی بیرونی ریاست کے کردار کو ثابت شدہ عدالتی نتیجے کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا بلکہ متعلقہ پاکستانی سرکاری ادارے کے دعوے کے طور پر منسوب کیا گیا ہے۔ کارروائیوں کے حوالے سے فوری طور پر کسی آزاد فریق کی ایسی تفصیلی تصدیق دستیاب نہیں تھی جو فوجی بیان میں دیے گئے تمام عملی حقائق کی الگ سے توثیق کرتی ہو۔