کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی ختم ہونے کی گنجائش موجود ہے، بشرطیکہ اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف لڑنے پر آمادہ ہو اور ایک مشترکہ منصوبے پر اتفاق ہو جائے۔ ڈان کی 18 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات کراچی میں کارساز یادگار کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ کارساز بم دھماکے کی 19ویں برسی کے سلسلے میں موجود تھے۔
بلاول کا بیان وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کیے جانے کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آیا۔ وفاق نے اس اقدام کے لیے صوبائی حکومت کے انسداد دہشت گردی کوششوں سے مبینہ عدم تعاون اور سکیورٹی صورتحال کو بنیاد بنایا تھا۔ اس سے قبل تحریک انصاف، جو صوبے میں حکومت کر رہی تھی اور وفاق میں اپوزیشن میں تھی، اپنے بانی عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے لیے احتجاجی تحریک اور مارچ بھی چلا رہی تھی۔
پیپلز پارٹی چیئرمین نے اپنی گفتگو میں گورنر راج کے خاتمے کو کسی طے شدہ تاریخ سے نہیں جوڑا بلکہ اسے سیاسی اور سکیورٹی تعاون سے مشروط کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہو اور مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق ہو تو غیر معمولی انتظامات ختم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بلاول بھٹو زرداری کی سیاسی تجویز اور مؤقف ہے؛ گورنر راج یا ایمرجنسی ختم کرنے کا آئینی و قانونی فیصلہ متعلقہ وفاقی و آئینی حکام کے باضابطہ اقدامات سے ہی ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں حالیہ سیاسی بحران کے دوران وفاق اور تحریک انصاف کے درمیان سکیورٹی پالیسی، صوبائی اختیارات اور سیاسی احتجاج کے معاملے پر شدید اختلافات سامنے آئے ہیں۔ پارلیمان نے بھی وفاقی اقدامات کی توثیق سے متعلق قراردادیں منظور کی تھیں، جبکہ تحریک انصاف ان اقدامات کی مخالفت کرتی رہی ہے۔ اس پس منظر میں بلاول کا تازہ بیان ممکنہ سیاسی راستہ تجویز کرتا ہے، مگر فریقین کے درمیان کسی نئے مشترکہ انسداد دہشت گردی معاہدے کی فوری تصدیق نہیں ہوئی۔
بلاول نے مولانا فضل الرحمن سمیت سیاسی رہنماؤں کے ممکنہ کردار پر بھی بات کی اور وسیع سیاسی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ موجودہ مرحلے پر ان کے بیان کو گورنر راج کے خاتمے کا اعلان نہیں بلکہ اس کے لیے بیان کردہ سیاسی شرط سمجھنا درست ہوگا۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار وفاق، صوبائی سیاسی قوتوں اور اپوزیشن کے درمیان سکیورٹی پالیسی پر عملی اتفاق اور اس کے بعد ہونے والے آئینی فیصلوں پر ہوگا۔

