اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو اسلام آباد کے علاقے کری میں دانش اسکول کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر بچے کو خاندانی آمدن یا سماجی حیثیت سے قطع نظر معیاری تعلیم اور صحت کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ پاکستان ٹوڈے اور جیو نیوز کی 18 اکتوبر کی رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے تقریب سے خطاب میں ملک میں موجود تعلیمی عدم مساوات کو اجاگر کیا اور اسے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مساوات اور میرٹ کے تصور سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب میں دی گئی بریفنگ کے مطابق دانش اسکولوں میں 40 ہزار سے زیادہ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں 28 مزید اسکول زیر تعمیر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان میں بلوچستان میں نو، خیبر پختونخوا میں چھ، سندھ میں تین، آزاد جموں و کشمیر میں پانچ اور گلگت بلتستان میں چار اسکول شامل ہیں۔ اسلام آباد میں دانش یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے منصوبے کو بھی تکمیل کے قریب بتایا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ دانش اسکولوں کا بنیادی مقصد ایسے باصلاحیت بچوں کو معیاری تعلیمی سہولت دینا ہے جن کے خاندان مہنگے تعلیمی اداروں کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے 2010 میں پنجاب میں شروع کیے گئے دانش اسکول نیٹ ورک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ماڈل کو ملک کے دوسرے حصوں تک بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے پنجاب انڈومنٹ فنڈ کو پاکستان انڈومنٹ فنڈ میں تبدیل کرنے کو بھی ملک گیر سطح پر تعلیمی اور صحت کے مواقع بڑھانے کی کوشش قرار دیا۔
افتتاحی تقریب میں وفاقی وزرا، ارکان پارلیمان، سفارت کار، اساتذہ اور طلبہ شریک ہوئے۔ وزیراعظم نے اسکول کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور طلبہ و عملے سے ملاقات کی۔ وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے اس موقع کو تعلیمی شعبے کے لیے اہم قرار دیا، جبکہ وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کم وسائل رکھنے والے طلبہ کے لیے حکومتی تعلیمی پروگراموں کا ذکر کیا۔
دانش اسکول نیٹ ورک کی توسیع سے متعلق زیر تعمیر اداروں کی تعداد اور منصوبوں کی پیش رفت سرکاری بریفنگ پر مبنی ہے۔ ان منصوبوں کے مکمل ہونے کی حتمی تاریخیں یا مجموعی لاگت دستیاب رپورٹ میں تفصیل سے بیان نہیں کی گئیں۔ اس لیے خبر میں افتتاح شدہ کری کیمپس اور سرکاری طور پر بیان کردہ زیر تعمیر منصوبوں کے درمیان واضح فرق رکھا گیا ہے۔

