چین کی مصنوعی ذہانت کی چپ ساز کمپنی شنگھائی انفلیم ٹیکنالوجی 11 ستمبر کو شنگھائی کی ٹیکنالوجی مرکوز اسٹار مارکیٹ میں اپنے حصص کی تجارت شروع کرے گی۔ رائٹرز کے مطابق کمپنی نے ابتدائی عوامی پیشکش میں 4 کروڑ 30 لاکھ نئے حصص 142.18 یوان فی حصص کی قیمت پر فروخت کرکے 6.12 ارب یوان، یعنی تقریباً 91.2 کروڑ ڈالر، اکٹھے کیے۔ اس قیمت پر کمپنی کی مجموعی قدر تقریباً 61.19 ارب یوان، یا 9.1 ارب ڈالر کے قریب بنتی ہے۔

انفلیم کو چینی انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی گروپ ٹینسنٹ کی حمایت حاصل ہے۔ لسٹنگ کے بعد ٹینسنٹ کے پاس کمپنی کا تقریباً 17.95 فیصد حصہ رہنے کی توقع ہے، جس سے وہ بڑا شیئر ہولڈر برقرار رہے گا۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق انفلیم کی آمدن میں ٹینسنٹ کا حصہ بھی نمایاں رہا ہے اور 2025 میں کمپنی کی آمدن کا بڑا حصہ اسی صارف سے منسلک تھا۔ یہ انحصار سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم کاروباری عنصر ہے، کیونکہ بڑے صارف سے حاصل ہونے والی فروخت تیز نمو فراہم کر سکتی ہے لیکن آمدن کے ارتکاز کا خطرہ بھی بڑھاتی ہے۔

کمپنی ابھی خسارے میں ہے۔ جنوری سے ستمبر 2026 کے لیے اس نے 70 کروڑ سے 86 کروڑ یوان تک خالص نقصان کا تخمینہ دیا ہے، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے نقصان سے کم ہے۔ اسی دوران آمدن 2.3 ارب سے 3 ارب یوان تک پہنچنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو سال بہ سال کئی گنا اضافہ بنتا ہے۔ کمپنی نے 2026 یا 2027 کے دوران بریک ایون یا منافع میں آنے کی توقع ظاہر کی ہے، لیکن یہ انتظامیہ کا تخمینہ ہے اور حتمی مالی نتیجہ نہیں۔ انفلیم کی لسٹنگ ایسے وقت ہو رہی ہے جب چین مقامی اے آئی چپس اور کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھا رہا ہے اور مقامی کمپنیوں کو امریکی ٹیکنالوجی پابندیوں اور عالمی مسابقت کے درمیان اپنی سپلائی چین اور مصنوعات مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔