امریکا کی ریاست پنسلوانیا کے شہر ایری میں ایک گھر اور اس کے اطراف فائرنگ کے واقعے میں آٹھ افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں، جبکہ جس شخص پر فائرنگ کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا وہ بھی گھر کے اندر مردہ پایا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ان تفصیلات کی بنیاد مقامی میڈیا کی رپورٹس ہیں، جن کی متعلقہ پولیس نے خبر شائع ہونے تک براہ راست تصدیق نہیں کی تھی۔
ڈان میں 11 اکتوبر کو شائع ہونے والی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پولیس کو جمعہ کی شام تقریباً پانچ بجے ایری شہر کے ایک رہائشی علاقے سے گولیاں چلنے کی اطلاع ملی۔ ایری نیوز ناؤ نامی مقامی ادارے نے بتایا کہ اہلکار جب موقع پر پہنچے تو دو خواتین کی لاشیں سڑک پر موجود تھیں۔ اس کے بعد مشتبہ حملہ آور گھر کے اندر موجود رہا اور پولیس نے عمارت کو گھیر لیا۔
مقامی رپورٹ کے مطابق اہلکاروں نے گھر میں موجود شخص کو باہر آنے کا حکم دیا، تاہم محاصرے کے دوران مزید گولیوں کی آوازیں سنائی دیں۔ بعد میں پولیس عمارت میں داخل ہوئی تو گھر کے مختلف حصوں میں مزید ہلاک شدگان ملے، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ مقامی خبر میں کہا گیا کہ مشتبہ حملہ آور کے جسم پر گولی کا ایسا زخم تھا جو بظاہر خود لگائے جانے کا اشارہ دیتا تھا۔ یہ ابتدائی اطلاع ہے اور موت کی باقاعدہ عدالتی یا طبی وجہ کے بارے میں حتمی رپورٹ دستیاب نہیں تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ واقعے کا سامنا کرنے والے پولیس اہلکاروں کے لیے نفسیاتی مشاورت کا بندوبست کیا جارہا ہے۔ اے ایف پی کے رابطہ کرنے پر ایری پولیس ڈپارٹمنٹ نے فوری طور پر واقعے کی تفصیلات بتانے یا ان کی تصدیق کرنے سے انکار کیا۔ شہر کے میئر کی طرف سے پریس کانفرنس متوقع تھی، جس سے تحقیقات اور ہلاک شدگان کے بارے میں مزید مستند معلومات سامنے آسکتی تھیں۔
ابتدائی رپورٹ میں کسی حملہ آور کی شناخت، محرک یا تمام متاثرہ افراد کے باہمی تعلق کی حتمی تصدیق شامل نہیں۔ اس لیے واقعے کی نوعیت کے بارے میں غیرمصدقہ قیاس آرائیوں کو خبر کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ دستیاب اطلاعات سے اتنا معلوم ہوتا ہے کہ رہائشی علاقے میں ہونے والی فائرنگ میں متعدد جانیں ضائع ہوئیں اور پولیس نے موقع پر کارروائی کی، تاہم مزید تفصیل کے لیے باضابطہ تفتیشی نتائج کا انتظار ضروری ہوگا۔
