لندن: بھارتی کاروباری گروپ ایسار نے برطانیہ کی پیٹرول اسٹیشن آپریٹر SGN Retail کا حصول مکمل کر لیا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے برطانوی ایندھن ریٹیل نیٹ ورک میں 118 نئی سائٹس شامل ہو گئی ہیں۔ پیر 14 ستمبر 2026 کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اس سودے کے بعد Essar Energy Transition Fuels کے تحت کام کرنے والے EET Retail کے اسٹیشنوں کی مجموعی تعداد 235 تک پہنچ گئی ہے۔ کمپنی 2031 تک اپنے نیٹ ورک کو 800 مقامات تک بڑھانے کا ہدف رکھتی ہے۔

ایسار نے سودے کی حتمی قیمت باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی۔ تاہم معاملے سے واقف دو افراد نے رائٹرز کو بتایا کہ لین دین کی قدر تقریباً 400 ملین سے 450 ملین پاؤنڈ کے درمیان ہو سکتی ہے۔ چونکہ یہ رقم کمپنی کی سرکاری طور پر اعلان کردہ قیمت نہیں، اس لیے اسے ذرائع پر مبنی تخمینہ سمجھا جانا چاہیے۔ ایسار نے رائٹرز کی جانب سے قیمت پر تبصرے کی درخواست پر رقم کی تصدیق نہیں کی۔

کمپنی کے مطابق حصول کی مالی معاونت نقد وسائل اور 250 ملین پاؤنڈ کی ایک سینئر قرض سہولت کے امتزاج سے کی گئی۔ اس فنانسنگ میں First Abu Dhabi Bank، Macquarie، Mizrahi Tefahot Bank، Royal Bank of Canada اور Sumitomo Mitsui Banking Corporation شامل ہیں۔ نئی سائٹس کے اضافے سے ایسار کو برطانیہ میں اپنے ایندھن اور مستقبل کی کم کاربن نقل و حمل سے متعلق کاروباری حکمت عملی کو وسیع کرنے کا موقع ملے گا۔

EET Retail، Essar Energy Transition Fuels کا حصہ ہے، جو شمال مغربی انگلینڈ میں اسٹین لو آئل ریفائنری بھی چلاتا ہے۔ اس ریفائنری کی یومیہ پراسیسنگ صلاحیت تقریباً 2 لاکھ بیرل ہے اور یہ برطانیہ کے اہم ایندھن پیداواری مراکز میں شمار ہوتی ہے۔ ریفائننگ اور ریٹیل نیٹ ورک کا امتزاج ایسار کو ایندھن کی پیداوار سے آخری صارف تک سپلائی چین کے مختلف حصوں میں موجودگی فراہم کرتا ہے۔

SGN Retail کی 118 سائٹس کے انضمام کے بعد کمپنی کے سامنے آپریشنل یکجائی، برانڈنگ، سپلائی معاہدوں اور اسٹیشنوں پر مستقبل کی خدمات بڑھانے جیسے مراحل ہوں گے۔ ایسار نے 2031 تک 800 سائٹس کے ہدف کا اعلان کیا ہے، مگر یہ مستقبل کی کاروباری منصوبہ بندی ہے اور مزید حصول، سرمایہ کاری اور مارکیٹ حالات پر منحصر ہوگی۔

14 ستمبر کی مصدقہ پیش رفت SGN Retail کے حصول اور 118 مقامات کے EET Retail نیٹ ورک میں شامل ہونے کی ہے۔ سودے کی 400 سے 450 ملین پاؤنڈ کی ممکنہ قدر رائٹرز کے ذرائع کا تخمینہ ہے، جبکہ کمپنی کی جانب سے باضابطہ قیمت ظاہر نہیں کی گئی۔