اسٹراسبرگ: یورپی کمیشن ایک نیا ہنگامی ردعمل فریم ورک تجویز کرنے جا رہا ہے جس کا مقصد اچانک بڑے پیمانے پر مہاجرین کی آمد سے نمٹنے کے لیے رکن ممالک کو اضافی اختیارات فراہم کرنا ہے۔ کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لاین نے بدھ کو اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ حالیہ واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ ہنگامی حالات کے لیے یورپی یونین کے موجودہ آلات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔

وان ڈیر لاین کے مطابق مجوزہ ’یورپین ایمرجنسی رسپانس فریم ورک‘ خاص طور پر ایسے حالات کے لیے ہوگا جن میں مہاجرین کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کو جان بوجھ کر منظم یا سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فریم ورک صرف سخت اور واضح معیار پورا ہونے کی صورت میں فعال ہوگا اور معمول کے طریقہ کار میں دی جانے والی کوئی بھی نرمی محدود مدت اور واضح دائرہ کار تک ہوگی۔ اس طرح کمیشن اس تجویز کو مستقل متبادل نظام کے بجائے غیر معمولی حالات کے لیے مخصوص آلہ قرار دے رہا ہے۔

یورپی کمیشن کی صدر نے سرحدی تحفظ پر زور دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین بنیادی حقوق اور اپنی اقدار کی پابندی برقرار رکھے گی۔ ان کے مطابق مقصد یہ ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کے لیے حکومتوں کے پاس ہنگامی حالات میں مناسب قانونی اور انتظامی وسائل ہوں، لیکن اقدامات ایسے معیار کے تحت ہوں جو ان کے غیر محدود استعمال کو روکے۔ مجوزہ فریم ورک کی مکمل قانونی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں اور اسے یورپی یونین کے قانون سازی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔

ہجرت یورپی سیاست میں طویل عرصے سے حساس مسئلہ رہی ہے اور مختلف رکن ممالک سرحدی کنٹرول، پناہ کے حق اور ذمہ داریوں کی تقسیم پر مختلف ترجیحات رکھتے ہیں۔ تازہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یورپی ادارے منظم سرحدی دباؤ اور غیر معمولی نقل مکانی کے واقعات کے لیے مشترکہ ردعمل کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ وان ڈیر لاین کے اعلان سے اب بحث اس بات پر مرکوز ہوگی کہ ہنگامی اختیارات کی تعریف کتنی محدود رکھی جاتی ہے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے کون سی قانونی ضمانتیں شامل کی جاتی ہیں۔