اسلام آباد: پاکستان نے بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرتے ہوئے اسے 24 اکتوبر 2026 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹس ٹو ایئرمین (نوٹم) کے مطابق یہ پابندی بھارتی رجسٹرڈ طیاروں کے ساتھ ان پروازوں پر بھی لاگو ہوگی جو بھارتی ایئرلائنز یا آپریٹرز کی ملکیت، آپریشن یا لیز میں ہوں۔ فوجی پروازیں بھی اس پابندی کے دائرے میں شامل ہیں۔
نوٹم کے مطابق نئی توسیع بدھ 16 ستمبر کو صبح 10 بج کر 45 منٹ سے نافذ ہوئی اور 24 اکتوبر کی صبح 4 بج کر 59 منٹ تک مؤثر رہے گی۔ اس سے پہلے موجود پابندی 24 ستمبر کو ختم ہونا تھی۔ نوٹس کا اطلاق پاکستان کے دونوں فلائٹ انفارمیشن ریجنز، کراچی اور لاہور، پر ہوگا، جس کے نتیجے میں بھارتی فضائی کمپنیوں کو پاکستان کے اوپر سے گزرنے والے مختصر راستوں کے بجائے متبادل اور نسبتاً طویل روٹس استعمال کرنا پڑیں گے۔
پاکستان اور بھارت نے اپریل 2025 میں ایک دوسرے کی فضائی کمپنیوں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کی تھیں۔ یہ اقدام مقبوضہ کشمیر کے پہلگام میں مہلک حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بڑھنے والی کشیدگی کے دوران سامنے آیا تھا۔ بھارت نے اس حملے کے سلسلے میں پاکستان پر الزامات عائد کیے تھے، جن کی اسلام آباد نے تردید کی اور غیر جانب دار تحقیقات کی پیشکش بھی کی تھی۔ بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان فوجی تناؤ مزید بڑھا۔
فضائی حدود کی بندش کا براہ راست اثر بھارتی کیریئرز کے بین الاقوامی روٹس پر پڑا ہے کیونکہ متعدد پروازوں کو زیادہ فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ ڈان کے مطابق ایئر انڈیا نے بھارتی حکام کو دی گئی ایک دستاویز میں اندازہ ظاہر کیا تھا کہ بعض طویل فاصلے کی پروازوں میں سفر کا دورانیہ تین گھنٹے تک بڑھا اور ایندھن کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ کمپنی نے سالانہ قبل از ٹیکس منافع پر اس بندش کے ممکنہ اثر کا تخمینہ 455 ملین ڈالر بتایا تھا۔ تازہ نوٹم سے واضح ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان فضائی رابطوں پر عائد یہ پابندی فی الحال برقرار رہے گی۔
