سیول: جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے پانچ وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ملک کی پہلی مشترکہ سربراہی کانفرنس کی میزبانی کی، جس میں اہم معدنیات اور توانائی تعاون کو نمایاں ترجیح دی گئی۔ رائٹرز کے مطابق سیول کی کوشش ہے کہ بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز، جدید صنعتوں اور توانائی کے لیے ضروری خام مال کی قابل اعتماد رسد کو متنوع بنایا جائے اور وسطی ایشیا کے وسائل رکھنے والے ممالک کے ساتھ طویل مدتی شراکت داری قائم کی جائے۔
وسطی ایشیا میں قازقستان، ازبکستان، ترکمانستان، کرغزستان اور تاجکستان شامل ہیں، جن میں سے کئی ممالک اہم معدنیات، یورینیم، تیل، گیس اور دیگر قدرتی وسائل کے بڑے ذخائر رکھتے ہیں۔ جنوبی کوریا خود صنعتی اور ٹیکنالوجی طاقت ہے لیکن بہت سے خام مواد کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے۔ اسی لیے سیول کی خارجہ اقتصادی پالیسی میں معدنی سپلائی چین کی حفاظت اور مختلف ممالک سے رسد کے راستے بڑھانا اہم بنتا جا رہا ہے۔
سربراہی اجلاس میں توانائی کے ساتھ صنعتی تعاون، سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق امکانات بھی زیر بحث آئے۔ جنوبی کوریا کی کمپنیاں جوہری توانائی، بیٹری ٹیکنالوجی، گاڑیوں، الیکٹرانکس اور تعمیرات میں عالمی سطح پر کام کرتی ہیں، جبکہ وسطی ایشیائی حکومتیں اپنے قدرتی وسائل کی مقامی پروسیسنگ، نئی صنعتوں اور بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ اس باہمی ضرورت نے دونوں خطوں کے درمیان اقتصادی روابط کے لیے نئی گنجائش پیدا کی ہے۔
یہ کانفرنس اس وسیع عالمی رجحان کا حصہ ہے جس میں بڑی صنعتی معیشتیں لیتھیم، نایاب ارضی عناصر، یورینیم اور دیگر اہم معدنیات کی سپلائی کو چند ذرائع تک محدود رکھنے کے بجائے متنوع بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ جغرافیائی کشیدگی اور صاف توانائی کی منتقلی نے ان خام مواد کی تزویراتی اہمیت بڑھا دی ہے۔ سیول میں ہونے والی پہلی سربراہی کانفرنس نے جنوبی کوریا اور وسطی ایشیا کے تعلقات کو ایک باقاعدہ اعلیٰ سطحی فریم ورک دیا ہے، جبکہ عملی نتائج آئندہ سرمایہ کاری، معاہدوں اور منصوبوں کے نفاذ سے واضح ہوں گے۔
