اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب پر حوثی حملوں اور یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں بڑھتی فوجی کشیدگی پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال ایک انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اجلاس سے خطاب میں سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں کی مذمت کی اور خطے میں مزید تصادم روکنے کے لیے فوری سفارتی کوششوں پر زور دیا۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ یمن کے اندر فوجی کشیدگی، سعودی عرب کے خلاف مسلسل حملے اور بحیرہ احمر کے ساحل پر تازہ پیش رفت نے تنازع کو سنگین موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ ان کے مطابق باب المندب اور اس کے اطراف حملوں کا پھیلاؤ بین الاقوامی جہاز رانی، تجارتی راستوں، عالمی سپلائی چین اور توانائی کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق ریاستوں کو اپنے شہریوں اور قومی اثاثوں کے دفاع کا حق حاصل ہے۔
عاصم افتخار احمد نے خبردار کیا کہ یمن میں 2022 کے بعد قائم ہونے والا نسبتاً سکون متاثر ہوا ہے اور مسلسل کشیدگی ملک کو دوبارہ وسیع جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں یمنی قیادت اور ملکیت پر مبنی جامع سیاسی عمل کی بحالی کی حمایت کی۔ اجلاس میں چین نے بھی فریقین سے تحمل اور مذاکرات کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا، جبکہ امریکا نے حوثیوں سے پیش قدمی اور حملے روکنے کا کہا اور ایران پر گروپ کی مدد کے الزامات عائد کیے۔ ایران سے متعلق امریکی دعوے واشنگٹن کا موقف ہیں۔
سعودی نمائندے نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران سمیت مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور تجارتی جہاز رانی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ یمنی نمائندے نے کہا کہ بحیرہ احمر کے ساحل پر حوثی پیش قدمی نے تنازع کو علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ افریقی ارکان کی جانب سے بھی خبردار کیا گیا کہ بحیرہ احمر میں رکاوٹ سے مال برداری اور انشورنس اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس کا اثر خوراک، ایندھن اور کھاد کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں عمومی طور پر کشیدگی کم کرنے اور سیاسی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
