تہران: ایران کے جنوبی صوبہ ہرمزگان میں آبنائے ہرمز کے قریب واقع سیریک کے علاقے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کی رپورٹ کے مطابق آوازیں سیریک کے کارپان علاقے میں سنائی دیں، لیکن فوری طور پر دھماکوں کی نوعیت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ارنا نے بتایا کہ مقامی ذرائع نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا علاقے کو کسی حملے میں نشانہ بنایا گیا، وہاں سے میزائل داغے گئے یا آوازوں کی کوئی دوسری وجہ تھی۔ اس لیے واقعے کو کسی مخصوص فوجی کارروائی سے جوڑنا اس مرحلے پر قبل از وقت ہوگا۔ دستیاب اطلاع صرف دھماکوں کی آوازوں کی رپورٹ کی تصدیق کرتی ہے۔
ہرمزگان ایران کے جنوبی ساحل پر واقع ہے اور آبنائے ہرمز سے متصل ہونے کے باعث عالمی توانائی اور بحری تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ معمول کے حالات میں دنیا کے تیل کی رسد کا ایک بڑا حصہ اسی تنگ بحری راستے سے گزرتا ہے، اس لیے علاقے میں کسی بھی سکیورٹی واقعے کی خبر بین الاقوامی منڈیوں اور جہاز رانی کی نگرانی کرنے والے اداروں کی فوری توجہ حاصل کرتی ہے۔
بزنس ریکارڈر میں شائع اے ایف پی رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں رواں ماہ اس نوعیت کی یہ پہلی اطلاع ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری تنازع کے دوران حالیہ ہفتوں میں نسبتاً کم فوجی سرگرمی رپورٹ ہوئی تھی، تاہم آبنائے ہرمز اور خلیجی پانی مسلسل علاقائی کشیدگی کا حساس مرکز رہے ہیں۔
ایران نے تنازع کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے اپنی اجازت سے متعلق سخت مؤقف اختیار کیا، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں اور جہازوں کے خلاف جوابی پابندیوں اور ناکہ بندی جیسے اقدامات کیے۔ ان وسیع حالات کے باوجود سیریک میں سنی گئی آوازوں کے بارے میں کوئی مصدقہ ثبوت دستیاب نہیں کہ وہ انہی کارروائیوں کا حصہ تھیں۔
ایرانی حکام کی جانب سے مقام، ممکنہ نقصان، جانی نقصان یا کسی فوجی تنصیب کے متاثر ہونے کی تفصیل فوری طور پر سامنے نہیں آئی۔ خبر کو اسی لیے ابتدائی اور محدود معلومات کے ساتھ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ واقعے کی نوعیت کے بارے میں کسی نتیجے کے لیے ایرانی حکام یا دیگر قابل اعتماد ذرائع کی مزید تصدیق درکار ہوگی۔

