ریاض: سعودی عرب میں آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کے قریب ایک ڈرون کو فضائی دفاع کے ذریعے روکے جانے کے بعد گرنے والے ملبے سے دو غیر ملکی شہری ہلاک اور دو زخمی ہو گئے، جن میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے۔ سعودی وزارت توانائی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک فلپائنی اور ایک نیپالی شہری شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں پاکستانی اور بھارتی شہری شامل ہیں۔
بزنس ریکارڈر میں شائع رپورٹ کے مطابق ڈرون کا ہدف سعودی آرامکو کا شیبہ آئل فیلڈ تھا۔ حکام نے بتایا کہ ڈرون کو روکنے کے بعد اس کا ملبہ نیچے گرا، جس کے نتیجے میں ایک گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور جانی نقصان ہوا۔ دستیاب سرکاری بیان میں زخمی پاکستانی شہری کی شناخت یا اس کی طبی حالت کی مزید تفصیل فوری طور پر جاری نہیں کی گئی۔
شیبہ سعودی عرب کے اہم تیل پیدا کرنے والے علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور مملکت کی توانائی تنصیبات پر کسی بھی حملے کو علاقائی سلامتی کے ساتھ عالمی توانائی منڈی کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ابتدائی رپورٹ میں اس واقعے کے باعث تیل کی پیداوار یا برآمدات میں کسی نمایاں تعطل کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ واقعہ یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ سعودی عرب نے حالیہ حملوں کے جواب میں میزائل لانچر مقامات پر فضائی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ اس کے دفاعی نظام نے متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون روکے ہیں۔ حوثیوں سے منسوب حملوں اور ان کے دعوؤں کے بارے میں فریقین کے بیانات میں فرق ہو سکتا ہے، اس لیے ہر واقعے کی ذمہ داری سے متعلق دعوے الگ تصدیق کے متقاضی رہتے ہیں۔
تازہ واقعے میں سعودی وزارت توانائی کی جانب سے جانی نقصان کی تفصیل سرکاری طور پر بیان کی گئی ہے۔ پاکستانی شہری کے زخمی ہونے کے باعث معاملہ پاکستان کے لیے بھی قونصلر اہمیت رکھتا ہے، تاہم دستیاب رپورٹ میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے کسی علیحدہ بیان یا متاثرہ شخص کی شناخت کا ذکر نہیں کیا گیا۔
علاقائی کشیدگی کے دوران توانائی تنصیبات اور شہری علاقوں کے قریب ڈرون یا میزائل روکنے سے گرنے والا ملبہ بھی شہریوں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ شیبہ کے واقعے میں ابتدائی طور پر یہی بتایا گیا ہے کہ اموات اور زخمی ہونے کا سبب روکے گئے ڈرون کا ملبہ تھا، نہ کہ آئل فیلڈ پر براہ راست کامیاب حملے کی تصدیق۔

