اسلام آباد/دوحہ: پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے ’بدر مفاہمتی یادداشت‘ پر دستخط کیے ہیں۔ ترک وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دستاویز پر بدھ 21 اکتوبر کو دوحہ میں دستخط کیے گئے اور اس کا مقصد چاروں ملکوں کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید گہرا کرنا اور مشترکہ صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مفاہمتی یادداشت فوجی پیداوار کے شعبے میں تعاون، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے، تکنیکی فوجی تربیت اور تحقیق و ترقی میں اشتراک کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ ترک وزارتِ دفاع نے اسے اقتصادی اعتبار سے بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ شریک ممالک اپنی اپنی دفاعی پیداواری مہارتوں اور صنعتی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا کر باہمی تعاون اور انضمام کو بہتر بنا سکیں گے۔

ترک حکام کے مطابق اس اقدام سے چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان روابط مضبوط کرنے، صنعتی استعداد بڑھانے اور اتحادی و دوست ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ معاہدہ مشترکہ اہداف کے حصول اور سلامتی کے فروغ کے لیے دفاعی صنعتی تعاون کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنے گا۔

یہ مفاہمتی یادداشت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ترکیہ خلیجی ممالک اور ایشیائی شراکت داروں کے ساتھ دفاعی صنعتی روابط بڑھا رہا ہے۔ قطر میں ترکیہ کی فوجی موجودگی اور دفاعی تعاون پہلے سے قائم ہے، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بھی دفاعی پیداوار اور تربیت کے مختلف شعبوں میں طویل عرصے سے روابط موجود ہیں۔ انڈونیشیا کے ساتھ ترکیہ کے دفاعی صنعتی تعلقات بھی حالیہ برسوں میں نمایاں ہوئے ہیں۔

دستیاب سرکاری بیان میں اس مفاہمتی یادداشت کے تحت کسی مخصوص ہتھیار، مشترکہ منصوبے کی مالیت، عمل درآمد کے شیڈول یا لازمی خریداری کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اس لیے اسے فی الحال دفاعی تعاون کے وسیع فریم ورک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی مخصوص دفاعی خریداری یا باہمی دفاعی ضمانت کے اعلان کے طور پر۔