ریاض: امریکا نے سعودی عرب میں اپنے سفارتخانے کے تمام عملے اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اے ایف پی نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ یہ ہدایت ایسے وقت جاری ہوئی ہے جب سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے مسلسل حملوں کا سامنا ہے۔
سفارتی ذریعے کے مطابق سعودی عرب میں موجود تمام امریکی عملے اور ان کے خاندانوں کو روانگی کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی ذریعے نے کہا کہ متحدہ عرب امارات، اردن، قطر اور بحرین میں امریکی سفارتی عملے کے اہل خانہ کو بھی ان ممالک سے نکلنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں ان دیگر ممالک کے تمام سفارتی ملازمین کے انخلا کا ذکر نہیں، اس لیے سعودی عرب کے حکم اور باقی ممالک کے لیے اہل خانہ سے متعلق ہدایت میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
یہ پیش رفت خلیجی خطے میں سکیورٹی صورت حال کے بگڑنے کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ سعودی عرب حالیہ عرصے میں یمن کے حوثی گروپ کے حملوں کا سامنا کر رہا ہے، جس سے سفارتی مشنز اور غیر ملکی شہریوں کے لیے حفاظتی انتظامات پر توجہ بڑھ گئی ہے۔ امریکی حکام عموماً خطرے کی سطح کے مطابق سفارتخانوں کے عملے، غیر ضروری اہلکاروں یا خاندانوں کے لیے روانگی کی ہدایات جاری کرتے ہیں۔
اے ایف پی کی خبر ایک سفارتی ذریعے کے بیان پر مبنی ہے۔ دستیاب رپورٹ میں امریکی محکمہ خارجہ کی تفصیلی تحریری ہدایت، روانگی کی آخری تاریخ، متاثرہ اہلکاروں کی تعداد یا سفارتخانے کی آئندہ قونصلر خدمات کی مکمل تفصیل شامل نہیں تھی۔ اسی لیے اس خبر میں صرف رپورٹ شدہ حکم کی حد تک تصدیق کی جا رہی ہے اور عملی انتظامات سے متعلق مزید تفصیلات سرکاری امریکی اعلانات سے واضح ہوں گی۔
خلیجی ممالک میں کسی سفارتی مشن کے عملے یا اہل خانہ کی نقل و حرکت خطے کی وسیع سیاسی و عسکری صورت حال کے لیے بھی اہم اشارہ سمجھی جاتی ہے، تاہم انخلا کی ہدایت بذات خود کسی نئے فوجی اقدام یا سفارتی تعلقات منقطع ہونے کا اعلان نہیں ہے۔ سفارتخانے کی عملی حیثیت اور خدمات کے بارے میں الگ سرکاری نوٹس فیصلہ کن ہوگا۔
علاقائی کشیدگی کے باعث فضائی سفر، سفارتی سرگرمیوں اور غیر ملکی شہریوں کے لیے حفاظتی مشوروں میں مزید تبدیلیاں ممکن ہیں۔ متاثرہ ممالک میں موجود افراد کے لیے متعلقہ حکومتوں اور سفارتخانوں کی تازہ سرکاری ہدایات بنیادی حوالہ رہیں گی۔

