اسلام آباد: برآمدات اور صنعتی بہتری کے لیے قائم ٹاسک فورس نے چمڑے، کھیلوں کے سامان، کٹلری اور قالین سازی سے وابستہ صنعتوں سے ایسی عملی تجاویز طلب کی ہیں جن کے ذریعے برآمدات میں اضافہ، پیداواری صلاحیت بہتر اور نئی بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی ممکن بنائی جا سکے۔ اجلاس کی صدارت وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کی۔

وزارت صنعت و پیداوار سے جاری معلومات کے مطابق اجلاس میں متعلقہ صنعتوں کے نمائندوں اور سرکاری حکام نے شرکت کی۔ ٹاسک فورس کا مقصد برآمدی شعبوں کو درپیش رکاوٹوں کی نشاندہی، صنعتی سرگرمی کی بحالی اور پائیدار معاشی نمو کے لیے قابل عمل اقدامات مرتب کرنا ہے۔ مشیر نے صنعت سے عمومی شکایات کے بجائے ایسے واضح اور شعبہ وار حل پیش کرنے کو کہا جنہیں پالیسی میں تبدیل کیا جا سکے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ چمڑا، کھیلوں کا سامان، کٹلری اور قالین پاکستان کی برآمدی بنیاد کو وسیع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان شعبوں میں پہلے سے پیداواری مہارت اور بین الاقوامی خریدار موجود ہیں، لیکن معیار، لاگت، پیداواری صلاحیت، مارکیٹ رسائی اور دیگر مخصوص رکاوٹوں پر کام کر کے ان کی برآمدی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

اجلاس میں صنعتوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے شعبے کے بنیادی مسائل، پیداواری صلاحیت بڑھانے کے طریقوں، مصنوعات کے معیار میں بہتری اور نئی برآمدی منڈیوں تک رسائی کے لیے تجاویز تیار کریں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس مشاورتی عمل کا مقصد کاروباری برادری کے عملی تجربے کو پالیسی سازی میں شامل کرنا ہے تاکہ اقدامات زمینی مسائل سے مطابقت رکھیں۔

ٹاسک فورس کی توجہ ان شعبوں پر بھی ہے جو پاکستان کی روایتی ٹیکسٹائل برآمدات سے باہر ہیں۔ برآمدی باسکٹ میں تنوع کو معاشی پالیسی میں اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ چند مصنوعات یا منڈیوں پر زیادہ انحصار بیرونی طلب میں تبدیلی کے وقت خطرات بڑھا سکتا ہے۔ غیر ٹیکسٹائل صنعتوں کی مسابقت بہتر ہونے سے زرمبادلہ آمدن اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی گنجائش بھی بڑھ سکتی ہے۔

حکومت نے صنعت کے ساتھ مزید مشاورتی اجلاس جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ اگلا اہم مرحلہ یہ ہوگا کہ متعلقہ شعبے اپنی تحریری اور قابل پیمائش تجاویز پیش کریں اور ٹاسک فورس ان میں سے قابل عمل سفارشات کو پالیسی اقدامات میں ڈھالے۔ مشیر نے صنعت کو یقین دلایا کہ حکومت صنعتی ترقی اور برآمدی نمو کے لیے نجی شعبے کے ساتھ رابطہ جاری رکھے گی اور کاروباری رکاوٹوں کی نشاندہی کے بعد متعلقہ اداروں کے ذریعے ان کے حل کی کوشش کی جائے گی۔