اسلام آباد: فیصل آباد میں 55 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے جدید ڈیری پروسیسنگ پلانٹ قائم کرنے کا منصوبہ سامنے آیا ہے، جسے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت حاصل ہوگی۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستانی کمپنی انٹرلوپ ہولڈنگز اور ترکیہ کی ریلا گیدا مشترکہ طور پر یہ پلانٹ قائم کریں گی، جس کا مقصد مقامی دودھ کو زیادہ قدر والی مصنوعات میں تبدیل کرنے کی صنعتی صلاحیت بڑھانا ہے۔
منصوبے کے تحت نئی سہولت میں پنیر، مکھن اور وے پروٹین سمیت مختلف ڈیری مصنوعات تیار کی جائیں گی۔ یہ مصنوعات روایتی خام دودھ یا کم پراسیس شدہ اشیا کے مقابلے میں زیادہ ویلیو ایڈیشن رکھتی ہیں، اس لیے پلانٹ کی توجہ جدید پراسیسنگ، مصنوعات کے تنوع اور برآمدی امکانات بڑھانے پر ہوگی۔ سرکاری معلومات کے مطابق نئے پلانٹ کے فعال ہونے کے بعد کمپنی کی سالانہ دودھ پراسیسنگ صلاحیت 180 ملین لیٹر تک پہنچ جائے گی۔
پاکستان میں دودھ کی پیداوار بڑی زرعی و لائیو اسٹاک سرگرمیوں میں شمار ہوتی ہے، تاہم صنعتی سطح پر محفوظ پراسیسنگ، کولڈ چین اور اعلیٰ قدر والی مصنوعات کی تیاری کی صلاحیت بڑھانا طویل عرصے سے شعبے کے اہم اہداف میں شامل رہا ہے۔ فیصل آباد میں مجوزہ سرمایہ کاری اس تناظر میں مقامی خام مال کو صنعتی مصنوعات میں تبدیل کرنے اور درآمدی متبادل یا برآمدی مصنوعات تیار کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔
ایس آئی ایف سی کا کردار بیرونی اور مقامی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے لیے متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ اور سہولت کاری فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے میں ترک کمپنی کی شمولیت سے ڈیری پراسیسنگ کے بین الاقوامی تجربے اور مقامی صنعتی نیٹ ورک کو یکجا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم سرکاری اعلان میں پلانٹ کی تعمیر کے آغاز، تکمیل کی حتمی تاریخ، زمین کے رقبے یا متوقع روزگار کی تعداد کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
منصوبہ عملی مرحلے میں داخل ہونے کے بعد اس کی کامیابی کا دارومدار خام دودھ کی مستقل اور معیاری فراہمی، کولڈ چین، فوڈ سیفٹی معیارات، توانائی کی دستیابی اور تیار مصنوعات کے لیے مقامی و برآمدی منڈیوں تک رسائی پر ہوگا۔ سرکاری موقف کے مطابق سرمایہ کاری سے پاکستان کی ویلیو ایڈڈ برآمدات بڑھانے اور ڈیری صنعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

