نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی نے ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتوں اور دستیابی کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ وفاقی اور صوبائی حکام کو مارکیٹ میں رسد بہتر بنانے اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں حکام نے موجودہ ذخائر، طلب، قیمتوں کے رجحان اور اگلی فصل تک ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت پر بریفنگ دی۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کو بتایا گیا کہ ملک میں گندم کے ذخائر اگلی فصل تک قومی ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس کے باوجود مختلف علاقوں میں قیمتوں کے دباؤ نے حکومت کو انتظامی نگرانی بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔ نائب وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ گندم اور آٹے کی بلاتعطل دستیابی یقینی بنائیں اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کریں جو ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت کے ذریعے قیمتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کریں۔
اجلاس میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ صوبوں کے درمیان گندم کی نقل و حرکت اور مارکیٹ تک رسائی میں غیر ضروری رکاوٹیں قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ وفاقی سطح پر متعلقہ اداروں سے کہا گیا کہ وہ صوبائی انتظامیہ کے ساتھ رابطہ رکھیں اور قیمتوں، اسٹاک اور سپلائی کی باقاعدہ نگرانی کریں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ دستیاب ذخائر کے ہوتے ہوئے غیر معمولی قیمتوں میں اضافے کو صرف مجموعی قلت سے منسوب نہیں کیا جا سکتا، اس لیے سپلائی چین اور مارکیٹ رویے کی نگرانی ضروری ہے۔
گندم پاکستان میں بنیادی غذائی جنس ہے اور اس کی قیمت میں تبدیلی براہ راست آٹے اور گھریلو خوراک کے اخراجات پر اثر ڈالتی ہے۔ حالیہ مہینوں میں کسانوں کے لیے امدادی قیمت، سرکاری خریداری اور نجی شعبے کے کردار پر بھی بحث جاری رہی ہے۔ حکومت نے آئندہ فصل اور خریداری سے متعلق پالیسی میں کسانوں اور صارفین دونوں کے مفادات کے توازن پر زور دیا ہے۔
کمیٹی کی ہدایات فوری انتظامی اقدامات ہیں؛ ان کے نتیجے میں قیمتوں میں کتنی اور کتنی جلد کمی آئے گی، اس کا تعین آنے والے دنوں میں مارکیٹ کے اعدادوشمار سے ہوگا۔ اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ صرف ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی سے تمام علاقوں میں یکساں قیمتیں قائم ہو جائیں گی، کیونکہ نقل و حمل، مقامی طلب اور صوبائی پالیسی بھی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
