اسلام آباد: اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (FAO) نے پاکستان کے غذائی نظام میں بڑی ساختی کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں 60 فیصد سے زائد لوگ صحت مند غذا کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ڈان میں 4 اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق FAO کے تازہ جائزے "Food Supply for Healthy Diets in Pakistan" میں خوراک کی موجودہ فراہمی اور قومی غذائی رہنما اصولوں کے مطابق مطلوبہ صحت مند خوراک کے درمیان مسلسل عدم توازن کو اہم مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔
جائزے میں کہا گیا کہ پاکستان میں سبزیوں، جڑوں اور زیرِ زمین اگنے والی غذاؤں، پھلوں، دالوں اور پلسز کی فراہمی مطلوبہ سطح سے کم ہے، جبکہ بنیادی اجناس اور چینی کی دستیابی صحت مند خوراک کی ضروریات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ FAO کے مطابق یہ عدم توازن غذائی قلت کی مختلف صورتوں کے ساتھ ساتھ غذا سے متعلق غیر متعدی بیماریوں کے بڑھتے خطرے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ادارے نے پالیسی سازوں کو تجویز دی کہ زرعی سرمایہ کاری اور حکومتی ترجیحات کو ایسی فصلوں اور غذاؤں کی پیداوار بڑھانے کی طرف منتقل کیا جائے جو متوازن خوراک کے لیے ضروری ہیں۔ سفارشات میں سبزیوں، پھلوں، دالوں، جڑوں اور ٹیوبرز کی پیداوار کے لیے بہتر معاونت، بعض علاقوں میں دودھ کی پیداوار میں اضافہ، اور فوڈ پراسیسرز کو معیار اور فوڈ سیفٹی کے اصولوں پر عمل کرنے کی ترغیب شامل ہے۔
FAO نے نمک، چینی اور غیر صحت مند چکنائی کی مقدار کم کرنے کے لیے پراسیسڈ غذاؤں کی تشکیل نو، پیکٹ کے سامنے واضح غذائی لیبلنگ، بچوں کو ہدف بنانے والی غیر صحت مند خوراک کی مارکیٹنگ پر پابندیوں، اور غذائیت سے بھرپور اسکول میل پروگراموں کی توسیع پر بھی زور دیا۔ جائزے میں کمزور طبقوں کے لیے سماجی تحفظ کے پروگرام مضبوط بنانے اور ایسی مالیاتی پالیسیوں پر غور کرنے کی سفارش کی گئی جن سے زیادہ چینی، نمک یا غیر صحت مند چکنائی والی مصنوعات کی کھپت کم ہو سکے۔
ادارے نے ذخیرہ گاہوں، کولڈ چین اور منڈی کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو بھی اہم قرار دیا تاکہ فصل کے بعد نقصانات کم ہوں اور صحت مند خوراک صارفین تک بہتر حالت اور مناسب قیمت پر پہنچ سکے۔ FAO کے مطابق متنوع، محفوظ اور غذائیت بخش خوراک تک مساوی رسائی پاکستان کی قومی ترقی اور صحت عامہ کی ترجیحات کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ جائزہ کسی ایک وقتی قیمت کے جھٹکے کے بجائے غذائی نظام کے وسیع مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس کے مطابق خوراک کی پیداوار، سپلائی، مارکیٹ تک رسائی، قیمت، صارفین کی معلومات اور سماجی تحفظ کو ایک ساتھ بہتر کیے بغیر صحت مند غذا کی دستیابی اور استطاعت میں پائیدار بہتری مشکل رہے گی۔
