پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سے استعفا دے دیا ہے۔ جوڈیشل کمیشن اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تقرری کے آئینی عمل میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
فاروق ایچ نائیک نے ڈان سے گفتگو میں اپنے استعفے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ذاتی مصروفیات کی وجہ سے کمیشن کی رکنیت چھوڑی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے ایک صفحے پر مشتمل خط سینیٹ کے چیئرمین یوسف رضا گیلانی اور سینیٹ میں قائدِ ایوان، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو بھیجا۔
استعفے کے خط میں فاروق نائیک نے حکومتی بینچوں کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کا رکن مقرر کیے جانے پر شکریہ ادا کیا اور کمیشن میں خدمات انجام دینے کو اپنے لیے اعزاز اور باعثِ فخر قرار دیا۔ وہ اعلیٰ عدالتوں اور سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری سے متعلق متعدد کمیشن اجلاسوں میں شریک رہے ہیں۔
فاروق نائیک ایک سینئر وکیل بھی ہیں اور طویل عرصے سے پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ 2003 سے سندھ سے سینیٹر رہ چکے ہیں، 2008 کے عام انتخابات کے بعد وفاقی وزیر قانون بنے اور سینیٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ میں متعدد آئینی مقدمات میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور وفاقی حکومت کی نمائندگی بھی کی۔
رپورٹ میں استعفے کے پس منظر میں کسی سیاسی یا ادارہ جاتی اختلاف کا ذکر نہیں کیا گیا اور خود فاروق نائیک نے وجہ ذاتی مصروفیات بتائی ہے۔ اس لیے ان کے فیصلے کو کسی دوسرے سبب سے جوڑنے کے لیے فی الحال مصدقہ شواہد موجود نہیں۔ استعفے کے بعد حکومتی بینچوں کی نمائندگی کے لیے کمیشن میں آئندہ نامزدگی کا معاملہ متعلقہ پارلیمانی اور آئینی طریقہ کار کے مطابق طے ہوگا۔

