پیرس: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس، FATF، نے کہا ہے کہ زیرِ زمین بینکاری، حوالہ اور اسی نوعیت کے غیر رسمی مالیاتی خدمات فراہم کرنے والے نیٹ ورک پیشہ ور منی لانڈرنگ کے بڑے عالمی راستوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ 3 ستمبر 2026 کو جاری رپورٹ کے مطابق بعض تحقیقات میں صرف چند ماہ کے دوران 50 کروڑ یورو سے زیادہ رقم ایسے نظاموں کے ذریعے منتقل یا سفید کیے جانے کے معاملات سامنے آئے۔

رپورٹ کے لیے FATF کے عالمی نیٹ ورک اور شراکت داروں کے 50 سے زیادہ دائرہ ہائے اختیار سے شواہد جمع کیے گئے۔ جواب دینے والے 80 فیصد سے زائد حکام نے زیرِ زمین بینکاری اور حوالہ جیسے نظاموں کو پیشہ ور منی لانڈرنگ کے بنیادی ذرائع یا طریقوں میں شمار کیا۔ FATF نے اس رجحان کو ’’منی لانڈرنگ بطور خدمت‘‘ کے منظم کاروباری نمونے سے جوڑا، جس میں جرائم پیشہ گروہ رقم چھپانے اور سرحد پار منتقل کرنے کا کام ماہر نیٹ ورکس کو سونپتے ہیں۔

FATF کے مطابق یہ نیٹ ورک اب صرف نقد رقم اور روایتی کھاتوں تک محدود نہیں رہے۔ بینک اکاؤنٹس، فن ٹیک پلیٹ فارم، ادائیگی خدمات، ورچوئل آئی بی اے این، پری پیڈ کارڈ اور ورچوئل اثاثوں کے والٹ رقم داخل اور نکالنے کے راستوں کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ تقریباً 70 فیصد جواب دہندگان نے نئی ٹیکنالوجی کے انضمام اور نام نہاد ’’ڈیجیٹل حوالہ‘‘ کی جانب بڑھتے رجحان کی نشاندہی کی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ آپریٹر رابطے اور لین دین کی ہدایات کے لیے واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور سگنل جیسی خفیہ پیغام رسانی ایپس استعمال کر سکتے ہیں۔ صارفین بینک ٹرانسفر، موبائل والٹ، فن ٹیک ایپ یا فوری ادائیگی نظام کے ذریعے رقم دیتے ہیں، جبکہ مختلف ملکوں میں موجود آپریٹر اپنے باہمی بقایاجات ورچوئل اثاثوں، خصوصاً اسٹیبل کوائنز، سے طے کر سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے اوزار اور مخصوص حوالہ ایپس کے استعمال کی مثالیں بھی رپورٹ میں درج ہیں۔

FATF نے واضح کیا کہ حوالہ یا اسی نوعیت کی خدمات بعض حالات میں جائز ضرورت پوری کر سکتی ہیں، خاص طور پر جہاں رسمی بینکاری تک رسائی محدود ہو۔ اس کے باوجود بیشتر ملکوں میں غیر رجسٹرڈ زیرِ زمین بینکاری یا بغیر لائسنس خدمات فراہم کرنا جرم ہے اور FATF کے ان معیارات سے متصادم ہے جو ایسے اداروں کی رجسٹریشن یا لائسنسنگ کا تقاضا کرتے ہیں۔ اس لیے رپورٹ تمام غیر رسمی ترسیلات کو خودکار طور پر جرم قرار نہیں دیتی، بلکہ ان کے غیر مجاز اور مجرمانہ استعمال میں فرق کرتی ہے۔

تحقیق کے مطابق ان نظاموں کا غلط استعمال اب منشیات اور اسمگلنگ کی نقد آمدن تک محدود نہیں۔ سائبر فراڈ، دہشت گردی کی مالی معاونت، غیر قانونی جوا، بدعنوانی اور سرحد پار منظم جرائم سے حاصل رقم بھی پیشہ ور نیٹ ورکس کے ذریعے چھپائی جا سکتی ہے۔ FATF نے وکلا، اکاؤنٹنٹس، آڈیٹرز، نوٹری، کمپنی بنانے والے ایجنٹس، مالی مشیروں، رئیل اسٹیٹ کے بعض کرداروں اور کیسینو سے وابستہ سہولت کاروں کے بڑھتے خطرے کی بھی نشاندہی کی؛ یہ عمومی خطراتی جائزہ ہے، کسی پورے پیشے پر الزام نہیں۔

رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، مالیاتی ریگولیٹرز اور نجی شعبے کے درمیان بروقت معلومات کے تبادلے، بین الاقوامی تعاون، واضح قوانین، بہتر سراغ رسانی اور متناسب مالی شمولیت کی سفارش کی گئی۔ FATF کے صدر جائلز تھامسن نے کہا کہ جدید سرحد پار نیٹ ورک منظم جرائم کی صلاحیت بڑھاتے ہیں اور انہیں توڑنے کے لیے سرکاری و نجی شراکت داروں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہو گا۔

پاکستان کے لیے اس رپورٹ کی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے کہ ترسیلاتِ زر، موبائل والٹس، فوری ادائیگیوں اور ورچوئل اثاثوں کا پھیلاؤ مالی شمولیت کے ساتھ نگرانی کے نئے تقاضے پیدا کر رہا ہے۔ تاہم رپورٹ کسی ایک پاکستانی ادارے یا نظام کو مجرم قرار نہیں دیتی؛ اس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ قانونی اور کم لاگت ادائیگی راستوں کو برقرار رکھتے ہوئے شناخت، لائسنسنگ، مشتبہ لین دین کی اطلاع اور سرحد پار تحقیق کے خلا بند کیے جائیں۔