فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اور اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم نے ایک نئی مشترکہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ زیر زمین بینکاری، حوالہ اور اسی نوعیت کے مالی خدمات فراہم کرنے والے نیٹ ورکس غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور چھپانے کے لیے ورچوئل اثاثوں اور فن ٹیک پلیٹ فارمز کا بڑھتا ہوا استعمال کر رہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے مطابق رپورٹ 3 ستمبر 2026 کو جاری کی گئی اور اس میں پیشہ ور منی لانڈرنگ کے عالمی طریقوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ 80 فیصد سے زیادہ جواب دینے والے دائرہ ہائے اختیار نے زیر زمین بینکاری اور اسی نوعیت کے غیر رسمی نیٹ ورکس کو پیشہ ور منی لانڈرنگ کے اہم ذرائع یا تکنیکوں میں شمار کیا۔ بعض کیسز میں چند ماہ کے اندر 50 کروڑ یورو سے زیادہ کی رقوم حوالہ یا زیر زمین بینکاری پر مبنی اسکیموں کے ذریعے منتقل کیے جانے کی مثالیں شامل ہیں۔ یہ اعداد مخصوص تحقیقات اور رپورٹنگ دائرہ ہائے اختیار کی معلومات پر مبنی ہیں، اس لیے انہیں کسی ایک ملک کی مجموعی غیر قانونی مالیات کا تخمینہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
ڈان کے مطابق رپورٹ کی تیاری میں تقریباً 45 دائرہ ہائے اختیار اور تنظیموں سے معلومات لی گئیں، جن میں پاکستان اور بھارت بھی شامل تھے۔ دونوں ملکوں سے متعلق مثالوں میں غیر رسمی مالی نیٹ ورکس کے غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں استعمال کا ذکر کیا گیا۔ کسی ملک کا رپورٹ میں شامل ہونا بذات خود اس ریاست یا اس کے پورے مالی نظام کے خلاف عدم تعمیل کا فیصلہ نہیں؛ ایف اے ٹی ایف کی باقاعدہ باہمی جانچ اور گرے لسٹ جیسے عمل الگ طریقہ کار رکھتے ہیں۔
روایتی حوالہ نظام نقد رقم یا باہمی کھاتوں کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کا پرانا طریقہ ہے، لیکن رپورٹ کا مرکز ایسے نیٹ ورکس کا مجرمانہ غلط استعمال ہے۔ جدید صورتوں میں ورچوئل اثاثے، ڈیجیٹل ادائیگیاں، فن ٹیک اکاؤنٹس اور متعدد ملکوں میں پھیلے واسطہ کار لین دین کی اصل نوعیت چھپانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ اس امتزاج سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے رقم کا سراغ لگانا زیادہ پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
ایف اے ٹی ایف اور او ای سی ڈی کی رپورٹ حکومتوں، مالیاتی اداروں اور ریگولیٹرز کے لیے خطرے کی نشاندہی کرتی ہے، نہ کہ ہر حوالہ لین دین کو خودکار طور پر جرم قرار دیتی ہے۔ مؤثر ردعمل کے لیے مشتبہ لین دین کی نگرانی، ورچوئل اثاثہ خدمات کی مناسب ریگولیشن، سرحد پار معلومات کے تبادلے اور پیشہ ور منی لانڈرنگ نیٹ ورکس کے مالی و ڈیجیٹل روابط کی مشترکہ تحقیقات اہم ہوں گی۔ پاکستان کے لیے بھی رپورٹ کے نتائج غیر رسمی مالیات اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کی نگرانی میں خطرے پر مبنی پالیسی کی اہمیت بڑھاتے ہیں۔




