اسلام آباد: فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے آن لائن گیمنگ اور جوئے کی تیزی سے پھیلتی ہوئی ڈیجیٹل سرگرمیوں سے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر غیر قانونی مالی بہاؤ کے بڑھتے خطرات سے خبردار کیا ہے۔ عالمی نگران ادارے نے 80 دائرہ اختیار میں کیے گئے جائزوں کی بنیاد پر ممالک اور ریگولیٹرز کے لیے نئے خطراتی اشاریے بھی جاری کیے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے مطابق گیمنگ اور گیمبلنگ خدمات تیزی سے آن لائن، سرحد پار اور مختلف ادائیگی نظاموں سے منسلک ہورہی ہیں، جس کے نتیجے میں مالی جرائم کی نگرانی مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔ رپورٹ میں کیسینو، آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز، ادائیگی کے ذرائع، غیر قانونی آپریٹرز اور وسیع مالیاتی نظام کے ساتھ ان کے روابط کا جائزہ لیا گیا ہے۔

نگران ادارے نے کہا کہ بعض پلیٹ فارم ایسے مالیاتی ماحولیاتی نظام کا حصہ بن چکے ہیں جہاں متعدد فریق کام کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ قومی سطح کے اینٹی منی لانڈرنگ اور انسداد دہشت گردی فنانسنگ ضوابط سے باہر رہ سکتے ہیں۔ مختلف ممالک میں جوئے کی قانونی حیثیت اور ریگولیٹری دائرہ کار میں فرق بھی خطرات کی شناخت اور ان کے تدارک کو مشکل بناتا ہے۔

رپورٹ میں ایسے طریقوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے ذریعے جرائم پیشہ عناصر پلیٹ فارمز کو رقوم منتقل کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، مثلاً حقیقی طور پر کھیل یا شرط لگائے بغیر رقم داخل اور خارج کرنا، شناخت سے بچنے کے لیے متعدد چھوٹی ٹرانزیکشنز کرنا، یا مشکوک مقابلوں پر غیر معمولی اور مربوط شرطیں لگانا۔ ایف اے ٹی ایف نے غیر قانونی اور بغیر لائسنس جوئے کو شعبے کے نمایاں خطرات میں شمار کیا ہے۔

ادارے کے مطابق بعض غیر قانونی آف شور آپریٹرز خود کو جائز کاروبار کے طور پر پیش کرتے ہیں اور گمنامی یا مالی ترغیبات کی پیشکش کے ذریعے عام صارفین کے ساتھ جرائم پیشہ عناصر کو بھی متوجہ کرسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں، ای والٹس، موبائل منی اور ورچوئل اثاثوں کے بڑھتے استعمال نے رقوم کی تیز رفتار سرحد پار منتقلی کے مزید راستے پیدا کیے ہیں۔

ایف اے ٹی ایف نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے قانونی اور ریگولیٹری نظام میں ان نئے خطرات کو شامل کریں، مشکوک لین دین کی نشاندہی بہتر بنائیں اور غیر قانونی آپریٹرز کے مالیاتی نظام تک رسائی روکنے کے لیے مؤثر نگرانی اختیار کریں۔ رپورٹ کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف کارروائی کا اعلان نہیں بلکہ عالمی سطح پر ابھرتے خطرات کی شناخت اور انسداد مالی جرائم کے معیار کو مضبوط بنانا ہے۔