جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پارلیمان میں مشترکہ اور مربوط اپوزیشن نہ ہونے کی وجہ سے حالیہ قانون سازی کا مؤثر مقابلہ نہیں کیا جا سکا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے پشاور میں پارٹی کارکنوں کے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن بنچوں کی تنظیمی کمزوری کی نشاندہی کی اور کہا کہ اپوزیشن لیڈر تمام جماعتوں کو ایک مشترکہ حکمتِ عملی پر جمع نہیں کر سکے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے مسلح افواج کی کمان سے متعلق حالیہ قانون سازی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے جلد بازی میں، مناسب بحث اور شقوں کے تفصیلی جائزے کے بغیر منظور کیا گیا۔ انہوں نے اپوزیشن کے واک آؤٹ کو ناکافی قرار دیا اور کہا کہ پارلیمان کے اندر فعال مزاحمت اور نگرانی ضروری تھی۔ قانون کے اثرات سے متعلق ان کی تشریح ایک سیاسی مؤقف ہے؛ اس رپورٹ میں متنازع قانونی شقوں کی آزاد آئینی جانچ یا حکومت کا تفصیلی جواب شامل نہیں۔
جے یو آئی ف کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کر کے مشترکہ پارلیمانی حکمتِ عملی پر گفتگو کی ہے۔ ان کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کو قانون سازی کے ہر مرحلے پر نظر رکھنی چاہیے اور محض ایوان سے باہر نکلنے کے بجائے بحث، ترامیم اور ووٹنگ میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے سینیٹ میں تیز رفتار منظوری کا بھی حوالہ دیا اور اسے پارلیمانی نگرانی کی کمزوری سے جوڑا۔
نئے صوبوں کی بحث پر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ امن و امان کی موجودہ صورتِ حال میں تقسیم کی بات مناسب نہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ نئی اکائیوں کی تجویز قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو کمزور کرنے اور صوبائی معدنی وسائل پر کنٹرول سے متعلق ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ان کا سیاسی دعویٰ ہے، کسی منظور شدہ سرکاری منصوبے یا آئینی ترمیم کا ثابت شدہ مقصد نہیں۔ انہوں نے ماضی میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کی مخالفت کا حوالہ بھی دیا۔
اردو ہیڈ لائنز نے ڈان کی براہِ راست دیکھی گئی رپورٹ کے مطابق تمام تنقیدی نکات مقرر سے منسوب کیے ہیں۔ خبر یہ ثابت نہیں کرتی کہ کسی نئی صوبائی تشکیل یا مزید قانون سازی کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے۔ حکومت، اپوزیشن لیڈر یا متعلقہ پارلیمانی ادارے کی جانب سے باضابطہ ردعمل آنے کی صورت میں اسی واقعے کی تصویر زیادہ مکمل ہوگی اور ضروری مادی تازہ کاری کی جائے گی۔




