کراچی: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے بتایا ہے کہ موجودہ ٹیکس فائلنگ مدت میں اب تک 22 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں، جو گزشتہ سال اسی مرحلے پر جمع ہونے والے 17 لاکھ 24 ہزار ریٹرنز سے زیادہ ہیں۔ یہ اعدادوشمار ایف بی آر نے کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کے وفد کے ساتھ ملاقات میں پیش کیے، جس کی صدارت چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کی۔

اعداد کے سادہ تقابل سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 4 لاکھ 76 ہزار زیادہ گوشوارے جمع ہوئے ہیں۔ تاہم یہ تعداد ٹیکس وصولیوں کے حجم کے مساوی نہیں ہوتی، کیونکہ ریٹرن فائل کرنے والے افراد اور اداروں کی قابل ٹیکس آمدن، واجب الادا ٹیکس اور پہلے سے کٹوتیوں کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود فائلرز کی تعداد میں اضافہ ٹیکس نیٹ اور رضاکارانہ تعمیل کی سمت ایک اہم انتظامی اشارہ سمجھا جاتا ہے۔

ملاقات میں ٹیکس دہندگان کے لیے سہولت، رضاکارانہ تعمیل اور ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن پر بھی گفتگو ہوئی۔ کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن نے مؤقف اختیار کیا کہ گوشواروں میں زیادہ تفصیلی معلومات کی طلب سے درست فائلنگ کے لیے درکار وقت بڑھ گیا ہے، اس لیے ٹیکس دہندگان کو اضافی مہلت اور واضح رہنمائی کی ضرورت ہے۔ ایسوسی ایشن نے ڈیجیٹل نظام کی حمایت کی لیکن ساتھ ہی مسلسل آگاہی اور صارف معاونت کو ضروری قرار دیا۔

ٹیکس بار نے بعض سروس سیکٹر ٹیکس دہندگان کے خلاف فیلڈ فارمیشنز کی تعزیری کارروائیوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور درخواست کی کہ ایسے کیسز کو انفرادی حقائق کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ اس کا مؤقف تھا کہ تعمیل بڑھانے کی پالیسی میں ایسی کارروائی سے گریز ہونا چاہیے جو رضاکارانہ فائلنگ کی حوصلہ شکنی کرے۔ یہ مطالبہ ٹیکس انتظامیہ کے اس مستقل چیلنج کی عکاسی کرتا ہے جس میں نفاذ اور سہولت کے درمیان توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔

پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام اور ملکی مالیاتی حکمت عملی میں ٹیکس بنیاد وسیع کرنا ایک بنیادی اصلاحی ہدف ہے۔ اس تناظر میں فائلرز کی تعداد بڑھانا اہم ہے، لیکن پائیدار نتائج کے لیے ریٹرنز کی درستگی، حقیقی آمدن کی رپورٹنگ، ٹیکس وصولی، غیر دستاویزی شعبوں کی شمولیت اور تنازعات کے مؤثر حل کو بھی ساتھ دیکھنا ہوگا۔ ایف بی آر اور ٹیکس بار کے درمیان موجودہ رابطہ آئندہ فائلنگ کے عمل، فارم کی پیچیدگی اور ڈیجیٹل سہولتوں میں ممکنہ بہتری کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔