اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پاکستان میں نمائندے ماہر بنجی نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کا مشن پاکستان کے جاری پروگرام کے اگلے جائزے اور آرٹیکل IV مشاورت کے لیے آئندہ ہفتوں میں ملک کا دورہ کرنے کی توقع رکھتا ہے۔ یہ جائزہ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے چوتھے مرحلے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے متعلقہ جائزے سے جڑا ہوا ہے۔

بزنس ریکارڈر کو دیے گئے بیان میں آئی ایم ایف کے نمائندے نے کسی مخصوص تاریخ کی تصدیق کے بجائے مشن کی آمد کو “آئندہ ہفتوں” سے تعبیر کیا۔ دوسری جانب پاکستانی میڈیا کی بعض رپورٹس میں 22 یا 23 ستمبر کے آس پاس مذاکرات شروع ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ چونکہ فنڈ کے نمائندے کے تازہ براہ راست بیان میں حتمی تاریخ نہیں دی گئی، اس لیے دورے کی مخصوص تاریخ کو اس مرحلے پر متوقع شیڈول سمجھنا زیادہ محتاط ہوگا۔

آئی ایم ایف کے سرکاری پروگرام دستاویزات کے مطابق پاکستان کے ای ایف ایف کے چوتھے جائزے کا تعلق جون 2026 کے اختتام تک طے شدہ کارکردگی کے معیارات اور مسلسل شرائط کی تکمیل سے ہے۔ فنڈ کے شیڈول میں ستمبر 2026 کو چوتھے جائزے سے منسلک مدت کے طور پر درج کیا گیا تھا۔ اسی طرح آر ایس ایف کے تحت بھی ستمبر 2026 میں مخصوص اصلاحاتی اقدامات کی تکمیل سے رقوم کی دستیابی منسلک ہے۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے مئی 2026 میں ای ایف ایف کا تیسرا اور آر ایس ایف کا دوسرا جائزہ مکمل کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد پاکستان کو ای ایف ایف کے تحت تقریباً 1.1 ارب ڈالر اور آر ایس ایف کے تحت تقریباً 220 ملین ڈالر تک فوری رسائی ملی، جبکہ دونوں انتظامات کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 4.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔ فنڈ نے اس وقت مالی استحکام برقرار رکھنے، ٹیکس بنیاد وسیع کرنے، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی شعبے کی پائیداری اور گورننس اقدامات کو اہم ترجیحات میں شمار کیا تھا۔

آئندہ جائزے میں پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف عملہ مالی اہداف، ٹیکس وصولیوں، توانائی شعبے، سرکاری اداروں، بیرونی مالیاتی ضروریات اور طے شدہ ساختی اصلاحات پر پیش رفت کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ کسی بھی نئی قسط کی حتمی دستیابی عملے کی سطح پر اتفاق رائے اور پھر آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہوگی۔ آرٹیکل IV مشاورت پروگرام جائزے سے الگ مگر متوازی وسیع معاشی جائزہ فراہم کرے گی، جس میں پاکستان کی مجموعی معاشی پالیسیوں اور خطرات کا تجزیہ شامل ہوگا۔