کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پانچ سالہ فلوٹنگ ریٹ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی بائی بیک نیلامی میں مجموعی طور پر 585.36 ارب روپے مالیت کی بولیاں قبول کر لی ہیں۔ مرکزی بینک نے نیلامی کے لیے 500 سے 600 ارب روپے کا ہدف رکھا تھا، اور بولیاں پی آر آئی ایس ایم نظام کے ذریعے طلب کی گئی تھیں۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ اقدام حکومت کی مقامی سرکاری قرضوں کو فعال انداز میں منظم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ بائی بیک نیلامی میں حکومت یا اس کی جانب سے مرکزی بینک پہلے سے جاری کردہ سیکیورٹیز کو مقررہ طریقہ کار کے تحت واپس خریدتا ہے، جس سے قرض کی میچورٹی پروفائل، مستقبل کی ادائیگیوں اور سودی لاگت کے انتظام میں مدد مل سکتی ہے۔ اس عمل کو نئی قرض گیری سے الگ سمجھنا ضروری ہے کیونکہ یہاں توجہ موجودہ واجبات کی ساخت پر ہوتی ہے۔

مارکیٹ ذرائع نے رپورٹ میں کہا کہ اسٹیٹ بینک کے منافع کی حکومت کو منتقلی سے پیدا ہونے والی مالی گنجائش نے طویل مدتی مقامی قرض کے قبل از وقت تصفیے میں مدد دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مرکزی بینک کے تقریباً 1.9 ٹریلین روپے کے منافع کی منتقلی نے حکومت کو قرضوں کے انتظام کے لیے اضافی گنجائش فراہم کی۔ یہ رقم بذات خود قرض ختم ہونے کی ضمانت نہیں، تاہم اسے موجودہ سیکیورٹیز واپس خریدنے اور قرض سروسنگ پروفائل میں تبدیلی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں مقامی قرض کا بڑا حصہ سرکاری سیکیورٹیز، بشمول ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، پر مشتمل ہے۔ شرح سود اور میچورٹی کی ساخت میں تبدیلی بجٹ کے سودی اخراجات پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔ فلوٹنگ ریٹ بانڈز کی ادائیگی مارکیٹ شرحوں سے منسلک ہونے کے باعث شرح سود کے ماحول میں تبدیلی کے ساتھ حکومت کی لاگت بھی بدل سکتی ہے، اسی لیے بائی بیک یا سویپ جیسے اقدامات قرض مینجمنٹ میں اہم اوزار سمجھے جاتے ہیں۔

نیلامی میں 585.36 ارب روپے کی قبول شدہ بولیاں مقررہ ہدف کی بالائی حد کے قریب ہیں۔ اس اقدام کے حتمی مالی اثر کا انحصار واپس خریدے گئے بانڈز کی قیمت، کوپن ساخت، متبادل قرض گیری کی لاگت اور حکومت کی مجموعی فنانسنگ ضروریات پر ہوگا۔ اس لیے نیلامی کو فوری بجٹ بچت کے قطعی عدد کے بجائے قرض کی ساخت بہتر بنانے کی ایک کارروائی کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہے۔