اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا ہے کہ حکومت نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ایف بی آر کے زیر التوا ٹیکس ریفنڈز کے اسٹاک کو 390 ارب روپے تک محدود رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس انتظام کا مطلب یہ ہے کہ ٹیکس ادارہ ریفنڈ واجبات کو طے شدہ حد سے اوپر جمع نہیں ہونے دے گا اور ادائیگیوں کے نظام کو اس حد کے اندر رکھنا ہوگا۔
کمیٹی کا اجلاس سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی صدارت میں ہوا، جہاں ٹیکس ریفنڈز کے علاوہ سیلف کنسائنمنٹ اسکیم کے تحت واپس ہونے والے غیر فروخت شدہ زیورات پر سیلز ٹیکس اور دیگر مالیاتی معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ایف بی آر حکام کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 500 ارب روپے کے ریفنڈز ادا کیے گئے تھے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی ارکان نے اس امر پر بھی سوال اٹھایا کہ نئے نظام کے تحت بعض ریفنڈز 72 گھنٹوں میں نمٹائے جانے کی توقع کے باوجود ادائیگیوں میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔ ریفنڈز برآمد کنندگان اور دیگر کاروباری اداروں کے لیے نقد بہاؤ کا اہم مسئلہ ہیں، کیونکہ واجب الادا رقم طویل عرصے تک رکی رہنے سے کاروباری سرمائے اور مالی لاگت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان ٹیکس انتظامیہ، محصولات کی وصولی اور مالی نظم سے متعلق متعدد اہداف پر عمل کر رہا ہے۔ ریفنڈ اسٹاک کی حد اس تناظر میں اس لیے اہم ہے کہ محصولات کی ظاہری کارکردگی کو واجب الادا ریفنڈز روک کر بہتر دکھانے کی گنجائش محدود ہو۔ تاہم 390 ارب روپے کی حد کا مطلب یہ نہیں کہ اتنی رقم حکومت کی مستقل آمدن بن گئی ہے؛ یہ واجبات اپنی قانونی اور انتظامی جانچ کے بعد مستحق ٹیکس دہندگان کو ادا کیے جانے ہوتے ہیں۔
کاروباری برادری طویل عرصے سے ریفنڈز کی بروقت ادائیگی، خودکار نظام کی شفافیت اور زیر التوا دعووں کے جلد تصفیے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی میں ہونے والی بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئندہ توجہ صرف مجموعی حد پر نہیں بلکہ انفرادی دعووں کی رفتار اور نظام کی کارکردگی پر بھی رہے گی۔ ایف بی آر کے لیے چیلنج یہ ہوگا کہ محصولات کے اہداف حاصل کرتے ہوئے جائز ریفنڈز کو غیر ضروری تاخیر سے بچایا جائے اور مالی سال کے دوران زیر التوا واجبات کو طے شدہ حد کے اندر رکھا جائے۔




