اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے افراد کے لیے درآمدی موبائل فونز پر واجب الادا سیلز ٹیکس کی ادائیگی قسطوں میں کرنے کی سہولت متعارف کرادی ہے۔ نئے انتظام کا مقصد ایسے صارفین کے لیے ادائیگی کا طریقہ نسبتاً آسان بنانا ہے جنہیں درآمد شدہ فون کی رجسٹریشن یا کلیئرنس کے موقع پر مکمل سیلز ٹیکس ایک ہی مرتبہ ادا کرنا پڑتا تھا۔

پاکستان میں بیرون ملک سے لائے جانے والے موبائل فونز کی قانونی رجسٹریشن اور ٹیکس ادائیگی کا نظام ڈیوائس کی شناخت اور قابل اطلاق ڈیوٹیز و ٹیکسوں سے منسلک ہے۔ ایف بی آر کی تازہ سہولت سیلز ٹیکس کی ادائیگی کے وقت کو تقسیم کرتی ہے، تاہم اس کا مطلب ٹیکس کی مجموعی ذمہ داری ختم ہونا نہیں ہے۔ صارف کو قابل اطلاق رقم مقررہ شرائط اور مدت کے مطابق ادا کرنا ہوگی۔

درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح اور مجموعی واجبات فون کی قیمت، درجہ بندی اور متعلقہ کسٹمز و ٹیکس قواعد کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔ اس لیے کسی مخصوص ماڈل پر واجب الادا رقم کے لیے صارفین کو ایف بی آر اور متعلقہ سرکاری نظام میں دستیاب تازہ حساب دیکھنا ہوگا۔ قسطوں کی سہولت کا عملی فائدہ بھی ادائیگی کی مدت، شرائط اور اہل صارفین کے دائرہ کار پر منحصر ہوگا۔

موبائل فون مارکیٹ میں درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کا مجموعی اثر خوردہ قیمتوں پر نمایاں رہتا ہے۔ قسطوں میں ٹیکس ادائیگی سے فوری نقد ادائیگی کا دباؤ کم ہوسکتا ہے، لیکن یہ لازماً فون کی بنیادی قیمت میں کمی نہیں کرتی۔ اسی طرح مقامی طور پر تیار یا اسمبل ہونے والے آلات پر اس فیصلے کے اثرات درآمدی فونز سے مختلف ہوسکتے ہیں۔

ایف بی آر کی جانب سے اس طرح کی ادائیگی سہولت ٹیکس وصولی کو برقرار رکھتے ہوئے صارف کے لیے طریقہ کار میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ صارفین کو کسی غیر سرکاری ایجنٹ یا غیر مصدقہ حساب پر انحصار کرنے کے بجائے سرکاری پورٹل اور جاری کردہ قواعد سے اپنی ذمہ داری کی تصدیق کرنی چاہیے، کیونکہ فون کی قیمت اور ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کے ساتھ قابل ادائیگی رقم بھی تبدیل ہوسکتی ہے۔