فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے فیکٹری سے اسی رجسٹرڈ شخص کے اپنے گودام تک سامان کی منتقلی کے لیے سیلز ٹیکس کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر دونوں مقامات ایک ہی سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر، یعنی STRN، کے تحت رجسٹرڈ ہوں تو اس نقل و حرکت کو taxable supply تصور نہیں کیا جائے گا۔ اس صورت میں ڈیجیٹل ٹیکس انوائس جاری کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہوگی، تاہم سامان کے ساتھ مقررہ Stock Transfer Note رکھنا ضروری ہوگا۔ یہ ہدایات Sales Tax General Order No. 25 of 2026 کے تحت جاری کی گئی ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق Sales Tax Act 1990 کی دفعہ 2(33) کے تحت کسی معاملے کو supply قرار دینے کے لیے ملکیت کی منتقلی یا consideration کا عنصر ضروری ہے۔ جب ایک ہی رجسٹرڈ شخص اپنی فیکٹری سے سامان اپنے ہی گودام منتقل کرتا ہے تو نہ ملکیت بدلتی ہے اور نہ فروخت ہوتی ہے، اس لیے اسے سیلز ٹیکس کے قابل سپلائی نہیں سمجھا جائے گا۔ اس وضاحت کا مقصد ٹیکس دہندگان اور سامان برداروں کو دورانِ سفر غیر ضروری رکاوٹوں سے بچانا اور فیلڈ افسران کے لیے یکساں طریقہ کار طے کرنا ہے۔
نئے SOPs کے تحت سامان بھیجنے والے یونٹ کو مسلسل نمبر کے ساتھ Stock Transfer Note تیار کرنا ہوگا جس پر نمایاں طور پر “Stock Transfer — Not a Taxable Supply” درج ہو۔ سامان کی قدر صرف inventory control کے لیے cost پر لکھی جائے گی اور دستاویز کو ٹیکس انوائس کی شکل نہیں دی جائے گی۔ یہ STN کھیپ کے ساتھ دورانِ سفر موجود ہونا چاہیے اور کسی مجاز چیک پوسٹ پر طلب کیے جانے پر پیش کرنا ہوگا۔ گودام پہنچنے پر warehouse manager کو وصولی کی تصدیق اور stock register کو اپ ڈیٹ کرنا ہوگا، جبکہ فیکٹری بھی اپنے ریکارڈ میں متعلقہ اندراج کرے گی۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اگر سامان جس گودام کو بھیجا جا رہا ہے اس کا STRN الگ ہے تو پھر یہ استثنا لاگو نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں منتقلی taxable supply سمجھی جائے گی، ڈیجیٹل انوائس جاری کرنا، output tax کا حساب رکھنا اور معاملے کو سیلز ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کرنا لازم ہوگا۔ یعنی نئی سہولت صرف اسی رجسٹرڈ شخص کے ان premises کے درمیان منتقلی کے لیے ہے جو ایک ہی STRN کے تحت ہوں۔
فیلڈ فارمیشنز کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایک ہی STRN والے premises کے درمیان درست STN کے ساتھ سامان کی نقل و حرکت کو عدم تعمیل نہ سمجھا جائے۔ ساتھ ہی کسی کھیپ کے پاس نہ ٹیکس انوائس ہو اور نہ STN تو اسے بادی النظر میں undocumented تصور کیا جا سکتا ہے۔ ہدایات میں ڈرائیوروں سے بلا ضرورت شناختی کارڈ مانگنے، گاڑیاں بلاجواز روکنے یا سامان اتار کر فزیکل چیکنگ کرنے سے گریز کا بھی کہا گیا ہے، سوائے قانون میں مخصوص اشیا کے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مقصد قانونی نقل و حرکت کو آسان بناتے ہوئے ریکارڈ کی شفافیت برقرار رکھنا اور ٹیکس دہندگان کی ہراسانی روکنا ہے۔
