اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سیلز ٹیکس کی نگرانی مضبوط بنانے کے لیے صنعتی پیداوار کی الیکٹرانک نگرانی کا دائرہ مزید شعبوں تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تازہ اقدام کے تحت چمڑا، کاغذ اور پیپر بورڈ تیار کرنے والے رجسٹرڈ ادارے بھی اس نظام میں شامل ہوں گے، جس کا مقصد ٹیکس حکام کو پیداواری سرگرمیوں کا براہ راست ریکارڈ فراہم کرنا ہے۔

آٹھ اکتوبر کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے سات اکتوبر کو ایس آر او 1751 آف 2026 جاری کیا۔ نوٹیفکیشن کے ذریعے متعلقہ صنعتوں کو سیلز ٹیکس رولز 2006 کے مخصوص باب کے تحت الیکٹرانک نگرانی میں شامل کیا گیا ہے۔ یہ اقدام پہلے سے مختلف صنعتی شعبوں میں جاری نگرانی کے نظام کی توسیع ہے، نہ کہ تمام صنعتوں کے لیے یکساں طور پر کسی نئے ٹیکس کا اعلان۔

ادارے نے چار نجی وینڈرز کو مختلف صنعتی شعبوں میں نگرانی کے آلات فراہم کرنے، نصب کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی اجازت بھی دی ہے۔ ان شعبوں میں پیک شدہ چائے، گھریلو برقی آلات، کاغذ و پیپر بورڈ، خوردنی تیل و گھی اور چمڑے کی صنعت شامل ہیں۔ دیگر مجاز کمپنیوں کی ذمہ داریوں میں مشروبات، بوتل بند پانی، دودھ اور جوس جیسی مصنوعات کی نگرانی بھی شامل ہے۔

نظام کے تحت پیداواری لائنوں پر انٹرنیٹ پروٹوکول کیمرے اور نیٹ ورک ویڈیو ریکارڈر نصب کیے جائیں گے۔ کیمرے پیداوار کی سرگرمی مسلسل ریکارڈ کریں گے اور ریکارڈنگ کم از کم دو ماہ محفوظ رکھی جائے گی۔ مقررہ وینڈرز آلات کی تنصیب، مرمت اور دیکھ بھال کے ذمہ دار ہوں گے، جبکہ انہیں اجازت سے باہر اضافی سافٹ ویئر یا سامان کی مد میں صنعت کاروں سے رقم وصول کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔

ایف بی آر کے طے کردہ انتظام کے مطابق ریکارڈ شدہ مواد ادارے کی ملکیت ہوگا اور اسے خفیہ سمجھا جائے گا۔ متعلقہ حکام کی ہدایت کے بغیر اس کی فراہمی یا اشتراک کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس شرط کا تعلق کاروباری معلومات اور فیکٹریوں کے اندرونی ریکارڈ کے تحفظ سے ہے۔

الگ انتظام کے تحت فولاد پگھلانے اور دوبارہ رولنگ کرنے والے اداروں کو بجلی کی کھپت آن لائن ظاہر کرنے کی سہولت بھی دی گئی ہے، خاص طور پر ان حالات کے لیے جب تقسیم کار کمپنیوں کی رپورٹنگ تاخیر کا شکار ہو۔ ٹیکس حکام کا مقصد خودکار معلومات کی کمی کے باعث سیلز ٹیکس گوشواروں میں پیش آنے والی عملی رکاوٹیں کم کرنا ہے۔