اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی رجسٹرڈ شخص کی فیکٹری سے اسی شخص کے اپنے گودام تک مال منتقل کیا جائے اور دونوں مقامات ایک ہی سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر (STRN) کے تحت ہوں تو یہ منتقلی قابلِ ٹیکس سپلائی تصور نہیں ہوگی۔ اس صورت میں ڈیجیٹل یا ای انوائس جاری کرنا ضروری نہیں ہوگا، تاہم کاروبار کو مقررہ طریقہ کار کے مطابق اسٹاک ٹرانسفر نوٹ تیار کرنا ہوگا۔
یہ وضاحت سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 25 آف 2026 کے ذریعے سامنے آئی ہے۔ آرڈر کے مطابق ایک ہی قانونی و رجسٹرڈ شخص کے دو مقامات کے درمیان مال منتقل ہونے سے ملکیت تبدیل نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی فروخت یا مالی معاوضہ وقوع پذیر ہوتا ہے، اس لیے اسے سیلز ٹیکس ایکٹ کے تحت معمول کی قابلِ ٹیکس سپلائی نہیں سمجھا جائے گا۔
اس سہولت کے باوجود دستاویزی ریکارڈ برقرار رکھنا لازم ہے۔ مال روانہ کرنے والے یونٹ کو ایک مسلسل نمبر والا نان فِسکل اسٹاک ٹرانسفر نوٹ تیار کرنا ہوگا جس پر واضح درج ہو کہ یہ منتقلی قابلِ ٹیکس سپلائی نہیں۔ یہ دستاویز کھیپ کے ساتھ رہے گی، وصول کرنے والا گودام اس کی وصولی کی تصدیق کرے گا اور دونوں مقامات اپنے متعلقہ اسٹاک رجسٹر اپ ڈیٹ کریں گے۔ متعلقہ ریکارڈ کو قانون کے مطابق محفوظ بھی رکھنا ہوگا۔
ایف بی آر نے ایک اہم فرق بھی واضح کیا ہے: اگر وصول کرنے والا گودام الگ STRN پر رجسٹرڈ ہو تو معاملہ دو مختلف رجسٹرڈ اشخاص کے درمیان منتقلی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ایسی صورت میں معمول کے سیلز ٹیکس اور ڈیجیٹل انوائسنگ تقاضے لاگو ہو سکتے ہیں اور اسٹاک ٹرانسفر نوٹ ٹیکس انوائس کا متبادل نہیں بنے گا۔
فیلڈ فارمیشنز کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ایک ہی STRN کے تحت درست اسٹاک ٹرانسفر نوٹ کے ساتھ سفر کرنے والی کھیپ کو صرف ٹیکس انوائس نہ ہونے کی بنیاد پر غیر دستاویزی نہ سمجھا جائے۔ البتہ ایسی کھیپ جس کے پاس نہ مطلوبہ ڈیجیٹل انوائس ہو اور نہ مقررہ اسٹاک ٹرانسفر نوٹ، اس پر متعلقہ قانونی کارروائی ہو سکتی ہے۔
اس اقدام کا عملی مقصد متعدد مقامات رکھنے والے کاروباروں کے اندرونی اسٹاک کی نقل و حرکت میں غیر ضروری انوائسنگ بوجھ کم کرنا ہے، لیکن اس سے فروخت، ملکیت کی منتقلی یا الگ رجسٹریشن نمبروں کے درمیان لین دین کے ٹیکس تقاضے ختم نہیں ہوتے۔ کاروباروں کو اپنی مخصوص رجسٹریشن ساخت اور ہر کھیپ کی نوعیت کے مطابق دستاویزات مکمل رکھنا ہوں گی۔
