فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے برآمد کنندگان کے موخر، زیر التوا یا مکمل طور پر تصدیق نہ ہونے والے سیلز ٹیکس ریفنڈ دعووں کی کارروائی میں تبدیلی کردی ہے۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ایف بی آر نے 4 ستمبر 2026 کو ایس آر او 1498(I)/2026 جاری کرکے سیلز ٹیکس رولز 2006 میں مزید ترمیم کی۔ نئے طریقے کا مقصد ان دعووں کو دوبارہ خودکار جانچ کا موقع دینا ہے جو معمول کے نظام سے گزرنے کے باوجود کلیئر نہیں ہو پاتے۔
ترمیم کے مطابق ابتدائی جانچ سمیت پہلے سے مقرر آٹھ ویلیڈیشن چیکس مکمل ہونے کے بعد اگر ریفنڈ کی کوئی رقم غیر تصدیق شدہ یا غیر کلیئر رہ جائے تو کمپیوٹرائزڈ نظام اسے مزید چار جانچوں سے گزارے گا۔ ہر اضافی جانچ ایک ہفتے کے وقفے سے ہوگی۔ اس ترتیب کا مطلب یہ ہے کہ کسی تکنیکی، ڈیٹا یا ریکارڈ کی وجہ سے پہلی جانچوں میں رکی رقم کو فوراً الگ دستی کارروائی میں بھیجنے کے بجائے نظام میں دوبارہ تصدیق کے چار مواقع ملیں گے۔
چار اضافی چکروں کے بعد بھی جو رقم کلیئر یا تصدیق نہ ہوسکے گی، اسے ’’اسٹار‘‘ ماڈیول کے تحت پراسیس کیا جائے گا۔ اسٹار کا مرحلہ خودکار کلیئرنس سے مختلف طریقۂ کار رکھتا ہے اور اس میں دعوے کے متعلقہ ریکارڈ کی مزید جانچ کی جاسکتی ہے۔ نئی ترمیم کسی زیر التوا دعوے کی خودکار منظوری، فوری ادائیگی یا تمام ریفنڈز کی ایک مقررہ تاریخ تک کلیئرنس کی ضمانت نہیں دیتی؛ ادائیگی کا انحصار دعوے کی قانونی اہلیت اور نظام میں مطلوبہ معلومات کی تصدیق پر رہے گا۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرنے والے ایک ٹیکس ماہر کے مطابق چار اضافی جانچوں کا فیصلہ برآمد کنندگان سے مشاورت کے بعد کیا گیا۔ برآمدی کاروباروں کے لیے سیلز ٹیکس ریفنڈ کی بروقت واپسی نقد بہاؤ کے اعتبار سے اہم ہوتی ہے، کیونکہ قابل واپسی ٹیکس کی رقم طویل عرصہ رکنے سے خام مال، اجرت اور نئے برآمدی آرڈرز کے لیے دستیاب ورکنگ کیپیٹل متاثر ہوسکتا ہے۔ تاہم موجودہ ایس آر او کے ممکنہ مالی فائدے کا اندازہ تب ہوگا جب ایف بی آر زیر التوا دعووں کی تعداد، مالیت، اوسط پراسیسنگ وقت اور اضافی جانچوں سے کلیئر ہونے والی رقم کے اعداد جاری کرے گا۔
اضافی ویلیڈیشن چیکس کا مقصد طریقۂ کار میں گنجائش پیدا کرنا ہے، مگر اس کے ساتھ غلط یا ناقابل تصدیق ریفنڈ دعووں کے خلاف حفاظتی جانچ برقرار رکھی گئی ہے۔ ہر دعوے کو متعلقہ انوائس، خرید و فروخت کے ریکارڈ، ریٹرن اور نظام میں موجود دیگر معلومات سے مطابقت رکھنا ہوگا۔ اس لیے نئے طریقے کو جانچ ختم کرنے کے بجائے جانچ کے مزید منظم چکروں اور بعد میں اسٹار ماڈیول کی جانب منتقلی کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
ایف بی آر کے اس اقدام سے پہلے بھی برآمدی شعبے کی جانب سے ریفنڈز کی تاخیر اور نقد بہاؤ کے مسائل اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ نئی ترمیم اس انتظامی مسئلے کے ایک مخصوص حصے، یعنی معمول کی ویلیڈیشن کے بعد غیر کلیئر رہ جانے والی رقم، کو حل کرنے کی کوشش ہے۔ ایس آر او میں تمام زیر التوا دعووں کی مجموعی مالیت یا یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ کون سے برآمدی شعبے اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
فی الحال تصدیق شدہ پیش رفت سیلز ٹیکس رولز میں ترمیم، پہلے آٹھ چیکس کے بعد چار اضافی ہفتہ وار ویلیڈیشن چکروں کی اجازت اور پھر باقی دعووں کو اسٹار ماڈیول میں منتقل کرنے کا فیصلہ ہے۔ اس تبدیلی کی مؤثریت کا قابلِ پیمائش جائزہ ادائیگی کی رفتار، کلیئر ہونے والی رقم، مسترد دعووں کی وجوہ اور برآمد کنندگان کی شکایات میں عملی کمی سے ہوگا۔




