اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بتایا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق شرط کے تحت ادارہ کسی بھی وقت 390 ارب روپے سے زیادہ ٹیکس ریفنڈز زیرِ التوا نہیں رکھ سکتا۔ یہ وضاحت 10 ستمبر کے اجلاس میں اس وقت سامنے آئی جب کمیٹی نے مختلف کاروباری اداروں کے ریفنڈز کی ادائیگی میں طویل تاخیر اور نئے نظام کے باوجود شکایات برقرار رہنے پر سوالات اٹھائے۔
Dawn کے مطابق کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ نئے نظام کے تحت ریفنڈز 72 گھنٹوں میں پراسیس ہونے کی توقع تھی، اس لیے یہ واضح ہونا چاہیے کہ بعض ٹیکس دہندگان کو ادائیگی کے لیے برسوں انتظار کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ اجلاس میں جائز انکم ٹیکس ریفنڈز روکے جانے کے معاملات بھی زیر بحث آئے اور ارکان نے کہا کہ تاخیر سے کمپنیوں کے نقد بہاؤ اور کاروباری سرگرمی پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔
ایک متاثرہ کیمیکل کمپنی Oleocorp کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ کمپنی کے 270 ملین روپے سے زائد ریفنڈز چھ برس سے زیرِ التوا ہیں۔ یہ دعویٰ کمپنی کے نمائندے نے پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کیا؛ اس مخصوص رقم اور مدت پر FBR کا الگ تفصیلی فیصلہ رپورٹ میں شامل نہیں تھا۔ کمیٹی نے معاملہ حل کرنے کی ہدایت دی، جبکہ FBR حکام نے ایک ماہ کے اندر پیش رفت کی یقین دہانی کرائی۔
FBR حکام کے مطابق ریفنڈ کے عمل میں صوابدید کم کرنے کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس میں ادائیگیاں first-in, first-out بنیاد پر کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں تقریباً 197 ارب روپے کے ریفنڈز جاری کیے گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ رقم 157 ارب روپے تھی۔ گزشتہ پورے مالی سال میں تقریباً 500 ارب روپے کے ریفنڈز ادا کیے گئے تھے۔
390 ارب روپے کی حد کے بارے میں FBR کے ایک اہلکار نے کمیٹی کو بتایا کہ IMF سے متعلق شرط کے تحت ادارہ اس سے زیادہ ریفنڈز روک نہیں سکتا۔ یہ رقم ریفنڈز کی اجازت یافتہ مستقل ضبطی نہیں بلکہ زیرِ التوا واجبات کی زیادہ سے زیادہ حد کے طور پر بیان کی گئی۔ کمیٹی کے ارکان نے اس کے باوجود سوال اٹھایا کہ اگر ریفنڈ جائز طور پر واجب الادا ہو تو اس کی ادائیگی میں طویل تاخیر کیوں ہوتی ہے اور ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب کا کیا طریقہ ہے۔
کمیٹی نے FBR سے گزشتہ پانچ برس کے ریفنڈز کی تفصیلات بھی طلب کیں اور متعلقہ شکایات پر رپورٹ واپس پیش کرنے کو کہا۔ اجلاس میں سامنے آنے والی بحث ٹیکس انتظامیہ کے لیے ایک اہم مسئلہ نمایاں کرتی ہے: محصولات کے اہداف پورے کرتے ہوئے کاروباری اداروں کے جائز ریفنڈز بروقت ادا کرنا اور ایسا نظام برقرار رکھنا جس میں واجبات کی ادائیگی بجٹ یا نقد انتظام کے باعث غیر ضروری طور پر مؤخر نہ ہو۔

