اسلام آباد: وفاقی حکومت اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے فیصلہ کیا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے افسران اور تاجر رہنما ملک بھر کے بازاروں میں مشترکہ رجسٹریشن مہم چلائیں گے تاکہ دکانداروں کو آسان ٹیکس اسکیم میں شامل ہونے کی سہولت ان کے کاروباری مراکز تک پہنچائی جا سکے۔ فیصلہ وزیر مملکت برائے خزانہ، محصولات و ریلوے بلال اظہر کیانی کی زیر صدارت 15 ستمبر کو ہونے والے جائزہ اجلاس میں کیا گیا۔

اجلاس میں آسان ٹیکس اسکیم کی اب تک کی پیش رفت، علاقائی ٹیکس دفاتر کی کارکردگی اور تاجروں کی جانب سے موصول ہونے والے فیڈ بیک کا جائزہ لیا گیا۔ سرکاری تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کے ریجنل ٹیکس اور کارپوریٹ ٹیکس دفاتر کے افسران پہلے سے طے شدہ اوقات میں تاجر نمائندوں کے ساتھ بازاروں کا دورہ کریں گے اور دکانداروں کی رجسٹریشن میں عملی مدد فراہم کریں گے۔

اجلاس میں تاجر رہنما اجمل بلوچ اور کاشف چوہدری، ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز زبیر بلال، ایف بی آر کے سینئر حکام، چیف کمشنرز اور اسلام آباد و راولپنڈی کے ٹیکس دفاتر کے نمائندے شریک ہوئے، جبکہ ملک بھر کے علاقائی اور کارپوریٹ ٹیکس دفاتر کے حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ پیش رفت کا دوبارہ جائزہ اگلے ہفتے لیا جائے گا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق آسان ٹیکس اسکیم کے تحت رجسٹرڈ دکانداروں کے لیے خصوصی ’’گرین پلیٹس‘‘ کا اجرا بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ پہلی کھیپ اسلام آباد کے علاوہ کراچی، لاہور، پشاور، مردان، دادو، بھلوال اور دیگر شہروں کے دکانداروں کے لیے جاری کی گئی۔ ان پلیٹس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ متعلقہ کاروبار اسکیم میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے۔

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کے مطابق اب تک تقریباً پانچ ہزار دکاندار اسکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ سرکاری وضاحت کے مطابق رجسٹرڈ دکانداروں کو عمومی آڈٹ سے استثنیٰ، پوائنٹ آف سیل مشین کی لازمی شرط سے چھوٹ اور ودہولڈنگ ایجنٹ بننے کی ذمہ داری سے استثنیٰ جیسی سہولتیں دی جا رہی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد چھوٹے کاروباروں کے لیے ٹیکس تعمیل کو نسبتاً آسان بنانا اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے۔

ایف بی آر اور تاجر نمائندوں کی مشترکہ مہم کا اصل امتحان یہ ہوگا کہ بازار کی سطح پر کتنے غیر رجسٹرڈ کاروبار رضاکارانہ طور پر اسکیم میں شامل ہوتے ہیں اور کیا سہولت کاری کے وعدے عملی طور پر برقرار رہتے ہیں۔ حکومت نے کہا ہے کہ رجسٹریشن، آگاہی اور عمل درآمد کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔