گلگت: گلگت بلتستان حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے 218 ارب 84 کروڑ 50 لاکھ روپے کا سالانہ بجٹ اسمبلی میں پیش کر دیا ہے۔ یہ مکمل بجٹ مالی سال شروع ہونے کے تقریباً تین ماہ بعد سامنے آیا، کیونکہ حکومت نے ابتدائی سہ ماہی کے لیے پہلے عبوری بجٹ منظور کیا تھا۔ سالانہ بجٹ میں 52 ارب روپے سے زائد خسارے کا تخمینہ بھی شامل ہے، جسے پورا کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے اضافی وسائل کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

Dawn کے مطابق سینئر وزیر اور وزیر خزانہ محمد علی اختر نے گلگت بلتستان اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پیش کیا، جس کی صدارت اسپیکر عمران ندیم نے کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی منتخب حکومت جون کے آخر میں اقتدار میں آئی اور مالی سال کے آغاز تک وقت کم ہونے کے باعث فوری طور پر مکمل بجٹ تیار کرنا ممکن نہیں تھا، اسی لیے پہلے تین ماہ کے لیے عبوری انتظام کیا گیا۔

بجٹ کے مجموعی حجم میں تقریباً 149 ارب 87 کروڑ روپے غیر ترقیاتی اخراجات جبکہ 43 ارب 97 کروڑ روپے ترقیاتی شعبے کے لیے رکھے گئے ہیں۔ حکومت کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 23 ارب روپے اور وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 20 ارب 97 کروڑ 30 لاکھ روپے شامل کیے گئے ہیں، جس میں وزیراعظم پیکیج کے تحت 4 ارب روپے بھی شامل ہیں۔

صوبائی نوعیت کے اپنے محصولات کے لیے تقریباً 16 ارب 98 کروڑ روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ نے اسمبلی کو بتایا کہ مجموعی بجٹ خسارہ تقریباً 52 ارب 65 کروڑ روپے ہے اور حکومت اس کمی کو پورا کرنے کے لیے وفاق سے درکار فنڈز حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بجٹ میں تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے اور کم آمدنی والے طبقات کی فلاح کو ترجیحی شعبوں کے طور پر پیش کیا گیا۔

دیگر پاکستانی ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز اور کم از کم ماہانہ اجرت 44 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز بھی بجٹ میں شامل ہے۔ ان اقدامات کے مالی اثرات متعلقہ قواعد، نوٹیفکیشنز اور بجٹ کی حتمی منظوری کے بعد عملی شکل اختیار کریں گے۔

گلگت بلتستان نے جولائی میں تقریباً 20.478 ارب روپے کا عبوری بجٹ پیش کیا تھا تاکہ مالی سال کے ابتدائی تین ماہ کے ضروری اخراجات جاری رکھے جا سکیں۔ موجودہ سالانہ بجٹ اس عبوری مرحلے کے بعد پورے مالی سال کی ترجیحات اور اخراجاتی فریم ورک طے کرتا ہے۔ خسارے کے باعث وفاقی معاونت اس بجٹ کے نفاذ میں اہم رہے گی، جبکہ محصولاتی اہداف اور ترقیاتی فنڈز کے اجرا کی رفتار آئندہ مہینوں میں بجٹ پر عمل درآمد کا اہم پیمانہ ہوگی۔