واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں ڈیجیٹل اثاثوں اور کرپٹو کرنسی کی ریگولیشن سے متعلق اہم قانون سازی ’’ڈیجیٹل ایسٹ مارکیٹ کلیرٹی ایکٹ‘‘ مطلوبہ 60 ووٹ حاصل نہ کر سکی، جس کے باعث بل کو باقاعدہ بحث کے اگلے مرحلے تک نہیں لے جایا جا سکا۔ 15 ستمبر کو ہونے والی کارروائی میں بل کے حق میں 50 اور مخالفت میں 49 ووٹ پڑے۔

رائٹرز کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد امریکا میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ایک نسبتاً واضح وفاقی ریگولیٹری ڈھانچہ قائم کرنا تھا، جس میں یہ طے کرنا بھی شامل تھا کہ مختلف اقسام کے کرپٹو ٹوکنز پر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کے اختیارات کس حد تک لاگو ہوں گے۔ بل کو سینیٹ میں آگے بڑھانے کے لیے 60 ووٹ درکار تھے۔

چار ریپبلکن سینیٹرز نے ڈیموکریٹس کے ساتھ بل کے خلاف ووٹ دیا۔ رائٹرز کے مطابق سینیٹر تھام ٹلس نے بعد میں اپنا ووٹ ایک طریقۂ کار کے تحت تبدیل کیا، جس سے مستقبل میں اس تجویز پر دوبارہ غور کی گنجائش برقرار رہ سکتی ہے۔ تاہم فوری طور پر قانون سازی کے آگے بڑھنے کا راستہ رک گیا ہے۔

بل پر اختلافات میں بینکاری نظام، منی لانڈرنگ سے متعلق تحفظات، اسٹیبل کوائن انعامات اور اخلاقی ضوابط شامل تھے۔ ڈیموکریٹک سینیٹر الزبتھ وارن، جو سینیٹ بینکنگ کمیٹی میں سرفہرست ڈیموکریٹ ہیں، نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے خاندانوں، قومی سلامتی اور معیشت سے متعلق خطرات کا مؤقف پیش کیا۔ کرپٹو صنعت کے حامیوں کا کہنا تھا کہ واضح قانون سازی کاروباری یقین، سرمایہ کاری اور امریکی مارکیٹ میں ضابطوں کی پیش گوئی کو بہتر بنا سکتی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور کئی ریپبلکن قانون ساز اس نوعیت کے کرپٹو فریم ورک کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ رائٹرز نے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ صدر اور ان کے خاندان کے کرپٹو سے متعلق کاروباری مفادات اخلاقی شقوں پر ہونے والی بحث کا حصہ رہے۔ ان نکات پر فریقین کے درمیان آخری مرحلے تک اتفاق نہ ہو سکا۔

سینیٹ میں بل کے رکنے کے بعد ڈیجیٹل اثاثوں کی نگرانی بڑی حد تک موجودہ قوانین اور ایس ای سی و سی ایف ٹی سی کی ریگولیٹری کارروائیوں کے تحت جاری رہے گی۔ بل پر مستقبل میں دوبارہ غور ممکن ہے، لیکن اس کے لیے سیاسی اتفاق اور 60 ووٹ کی حد پوری کرنا ضروری ہوگا۔ ووٹنگ کے بعد بٹ کوائن اور چند بڑی کرپٹو کمپنیوں کے حصص میں بھی کمی دیکھی گئی، جسے رائٹرز نے قانون سازی کے نتیجے سے منسلک مارکیٹ ردعمل کے طور پر رپورٹ کیا۔