اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت پی ٹی آئی کارکنوں اور سرگرم کارکنوں کی حراست سے متعلق مقدمات کی سماعت سے آئندہ حکم تک روک دیا ہے۔ یہ ہدایت چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے جاری کی، جس میں جسٹس عامر فاروق بھی شامل تھے۔

عدالت کے سامنے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے دائر درخواستیں زیر سماعت آئیں جن میں پشاور ہائیکورٹ کے مختلف عبوری احکامات کو چیلنج کیا گیا تھا۔ رپورٹنگ کے مطابق معاملہ ان افراد کی حراست سے متعلق ہے جنہیں ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت گرفتار کیا گیا، جبکہ پشاور ہائیکورٹ نے بعض زیر حراست افراد کو ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض عبوری ریلیف دیا تھا۔

وفاقی آئینی عدالت نے متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے وکلا کو عدالتی حکم کا جائزہ لینے اور ضروری اعتراضات یا درخواستیں پیش کرنے کی ہدایت کی۔ زیر بحث معاملات میں خیبرپختونخوا میں ہنگامی اقدامات اور گورنر راج کے بعد ہونے والی حراستیں بھی شامل ہیں۔

یہ حکم کسی زیر حراست شخص کے خلاف الزامات کے حتمی تعین یا گرفتاریوں کی قانونی حیثیت پر آخری فیصلہ نہیں ہے۔ موجودہ مرحلے پر وفاقی آئینی عدالت نے صرف پشاور ہائیکورٹ میں متعلقہ مقدمات کی سماعت روکنے کا عبوری عدالتی اقدام کیا ہے، جبکہ اصل درخواستوں پر مزید کارروائی ہونا باقی ہے۔

اس مقدمے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اس میں صوبائی انتظامیہ کے امن عامہ سے متعلق اختیارات اور ہائیکورٹ کے بنیادی حقوق کے تحفظ سے متعلق عدالتی اختیار کا سوال سامنے آتا ہے۔ آئندہ سماعتوں میں فریقین کے دلائل کے بعد یہ واضح ہوگا کہ وفاقی آئینی عدالت پشاور ہائیکورٹ کے عبوری احکامات اور صوبائی حکومت کے اعتراضات کے بارے میں کیا حتمی قانونی نتیجہ اخذ کرتی ہے۔