وفاقی آئینی عدالت نے سرکاری بھرتیوں میں امیدواروں کے سابقہ فوجداری مقدمات سے متعلق ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محض ایف آئی آر میں نام آنے کو سرکاری ملازمت سے مستقل نااہلی کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایف آئی آر الزام کی دستاویز ہے، جرم ثابت ہونے کا عدالتی فیصلہ نہیں، اس لیے کسی شخص کے خلاف پہلے درج مقدمے کو بلاجواز مستقل داغ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس علی باقر نجفی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عبداللطیف کی اپیل کی سماعت کرتے ہوئے یہ اصول وضع کیے۔ درخواست گزار پنجاب پولیس میں ڈرائیور کانسٹیبل کے عہدے کے میرٹ میں دوسرے نمبر پر آیا تھا، لیکن ماضی میں ایک فوجداری مقدمے میں نام آنے کی بنیاد پر اسے تقرری نہیں دی گئی۔ وہ اکتوبر 2018 میں مقدمے سے بری ہو چکا تھا اور بعد میں جاری پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹس میں بھی کوئی مجرمانہ ریکارڈ ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں ایف آئی آر اور عدالتی طور پر ثابت شدہ قصور کے درمیان بنیادی فرق پر زور دیا۔ فیصلے کے مطابق کسی مجاز عدالت سے بری ہونے کے بعد تقرری کرنے والا ادارہ اس عدالتی نتیجے کو نظرانداز کرکے پرانے الزام کو ثابت شدہ بدکرداری تصور نہیں کر سکتا۔ سرکاری اداروں کے فیصلے آئینی تقاضوں، مساوات، قانونی عمل اور منصفانہ طریقۂ کار کے مطابق ہونے چاہییں۔

وفاقی آئینی عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکام کے لیے رہنما اصول بھی بیان کیے۔ عدالت کے مطابق کسی امیدوار کے خلاف منفی کردار رپورٹ قیاس، شبہے یا غیر مصدقہ الزام کے بجائے مستند اور آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق مواد پر مبنی ہونی چاہیے۔ بریت کی صورت میں سابق مقدمہ پولیس کردار سرٹیفکیٹ میں منفی انداز سے ظاہر نہیں کیا جانا چاہیے، جبکہ اگر مقدمہ زیرِ سماعت ہو تو صرف اس کے زیرِ التوا ہونے کی حقیقت بیان کی جا سکتی ہے، جرم کا مفروضہ قائم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے متعلقہ حکام کو بھرتی کی پالیسیوں کا جائزہ لینے اور انہیں یکساں، شفاف اور آئینی اصولوں سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایت کی۔ فیصلے میں کہا گیا کہ انتظامی صوابدید کو ایسے غیر ثابت شدہ الزام کو مستقل رکاوٹ بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جو عدالتی طور پر جرم ثابت نہ ہوا ہو۔

بینچ نے درخواست گزار کو تقرری سے خارج کرنے والے محکمانہ فیصلے اور اس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ کے سابق فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ اس فیصلے کا عملی دائرہ متعلقہ قانونی اور بھرتی کے قواعد کے تابع رہے گا، تاہم عدالت کے وضع کردہ اصول سرکاری ملازمتوں میں کردار کی جانچ کے عمل کے لیے اہم رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔