واشنگٹن: امریکی فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر نے کہا ہے کہ مہنگائی کو مرکزی بینک کے دو فیصد ہدف تک واپس لانے کے لیے شرح سود میں مزید اضافہ درکار ہو سکتا ہے، تاہم ان اضافوں کی رفتار اور وقت کے بارے میں لچک موجود ہے۔ آٹھ اکتوبر کو ترکی کے مرکزی بینک کے ایک فورم کے لیے تیار کردہ خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ ہر متواتر اجلاس میں شرح بڑھانا ضروری نہیں۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق والر نے کہا کہ اگر اقتصادی اعداد و شمار توقعات کے مطابق آتے رہے تو وہ مہنگائی میں بروقت کمی کی خاطر مزید شرح سود بڑھانے کے حامی ہوں گے۔ ان کا یہ بیان آئندہ فیصلے کا اعلان نہیں بلکہ پالیسی کے ایک اہم رکن کی رائے ہے۔ شرح سود سے متعلق حتمی فیصلہ فیڈرل ریزرو کی پالیسی ساز کمیٹی اپنے اجلاس میں کرتی ہے۔

فیڈ نے ستمبر میں بنیادی پالیسی شرح میں ایک چوتھائی فیصد پوائنٹ اضافہ کیا تھا۔ اس وقت شرح سود کا ہدف 3.75 سے 4 فیصد کے درمیان ہے۔ رائٹرز کے مطابق پالیسی سازوں کے حالیہ اشارے اس امکان کی طرف ہیں کہ 27 اور 28 اکتوبر کے اجلاس میں شرح کو برقرار رکھا جا سکتا ہے، جبکہ آنے والے معاشی اعداد و شمار موزوں ہوئے تو دسمبر میں مزید اضافہ زیر غور آ سکتا ہے۔ یہ منظرنامہ مشروط توقع ہے، طے شدہ نتیجہ نہیں۔

والر کے مطابق امریکی معیشت میں سرگرمی کی رفتار مضبوط ہو رہی ہے، لیکن مہنگائی دو فیصد کے ہدف سے ایک فیصد پوائنٹ سے بھی زیادہ بلند ہے۔ انہوں نے ایران سے متعلق جنگ کے باعث توانائی کے جاری جھٹکوں اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑے منصوبوں کی وجہ سے بعض اشیا اور خدمات کی طلب میں اضافے کو مہنگائی کے نئے دباؤ کے ممکنہ عوامل میں شمار کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سال کی دوسری ششماہی میں معاشی سرگرمی کی مضبوطی کے شواہد کے باعث وہ اس خطرے سے بہت زیادہ پریشان نہیں کہ سخت مالیاتی پالیسی لازماً نقصان دہ معاشی سست روی پیدا کرے گی۔ تاہم انہیں یہ تشویش ہے کہ مہنگائی میں حالیہ تیزی کے باعث صارفین، سرمایہ کار اور کاروباری ادارے مستقبل کی قیمتوں کے متعلق اپنی توقعات بڑھا سکتے ہیں۔ ایسی توقعات پر قابو رکھنا مرکزی بینکوں کے لیے اہم ہوتا ہے۔

والر نے اس بحث پر بھی بات کی کہ مرکزی بینک کو مستقبل کے فیصلوں کے بارے میں منڈیوں سے کس قدر رابطہ رکھنا چاہیے۔ ان کے مطابق پالیسی کی ممکنہ سمت کا اشارہ دینا، اس شرط کے ساتھ کہ نئے اعداد و شمار پر فیصلے تبدیل ہو سکتے ہیں، غیر ضروری مارکیٹ اتار چڑھاؤ کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے کسی ایک آخری شرح سود یا اضافے کی قطعی تعداد مقرر نہیں کی۔ اس لیے ان کے بیان کا مرکزی نکتہ مزید سختی کے امکان کے ساتھ فیصلوں میں محتاط لچک برقرار رکھنا ہے۔