وفاقی اور سندھ حکومتوں نے ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت اور شہریوں کے لیے سرکاری خدمات کی ڈیجیٹل فراہمی میں تعاون مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ کراچی میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ملاقات میں قومی اور صوبائی ڈیجیٹل منصوبوں کی ہم آہنگی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

ملاقات میں ڈیجیٹل نیشن پاکستان فریم ورک، نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان زیر بحث آئے۔ ان اقدامات کا مقصد سرکاری ڈیٹا اور خدمات کو زیادہ مربوط بنانا، شہریوں کے لیے آن لائن رسائی بہتر کرنا اور مختلف اداروں کے درمیان ڈیجیٹل نظاموں کی مطابقت پیدا کرنا ہے۔

صوبائی حکومتیں تعلیم، صحت، زمین، مقامی حکومت اور متعدد شہری خدمات کا بڑا حصہ چلاتی ہیں، اس لیے قومی ڈیجیٹل پالیسی کی کامیابی کے لیے صوبوں کے نظاموں کا وفاقی پلیٹ فارمز سے محفوظ اور مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ سندھ میں کراچی جیسے بڑے شہری مرکز کی وجہ سے ڈیجیٹل خدمات کا پیمانہ خاص طور پر بڑا ہے۔

مصنوعی ذہانت کو سرکاری خدمات میں استعمال کرنے سے درخواستوں کی پروسیسنگ، ڈیٹا تجزیہ اور شہری شکایات کے نظام میں بہتری ممکن ہے، لیکن پرائیویسی، سائبر سکیورٹی، الگورتھمک غلطیوں اور ڈیجیٹل رسائی کے فرق کو بھی پالیسی میں شامل کرنا ہوگا۔

ملاقات میں کسی نئے مالی پیکیج یا مکمل ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اصل پیش رفت مشترکہ ڈیجیٹل معیارات، محفوظ ڈیٹا ایکسچینج اور شہریوں کے لیے فعال آن لائن خدمات سے ظاہر ہوگی۔ وفاق سندھ تعاون پاکستان میں ڈیجیٹل حکومت کو الگ الگ ادارہ جاتی منصوبوں کے بجائے مربوط قومی نظام بنانے کے لیے اہم قدم ہو سکتا ہے۔