گوجرانوالہ: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) گوجرانوالہ زون نے ایک ایسے 10 رکنی مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا بتایا ہے جس پر حوالہ ہنڈی اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ایف آئی اے کے مطابق گروہ کے ایک مبینہ سرغنہ آصف علی کو لاہور ایئرپورٹ پر پاکستان پہنچنے کے بعد گرفتار کیا گیا۔
ایف آئی اے گوجرانوالہ کے ڈائریکٹر محمد بن اشرف نے بتایا کہ یونان میں ادارے کے liaison office نے مشتبہ شخص سے متعلق معلومات پاکستان میں حکام کے ساتھ شیئر کی تھیں۔ ان معلومات کے بعد مبینہ نیٹ ورک سے وابستہ افراد کے نام stop list میں شامل کیے گئے اور آصف علی کی آمد پر اسے لاہور ایئرپورٹ سے حراست میں لیا گیا۔
ادارے کے مطابق مقدمے میں 10 افراد پر مشتمل ایک گروہ کو نامزد کیا گیا ہے جس پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی رقوم کی منتقلی اور انسانی اسمگلنگ کا نیٹ ورک چلانے کا الزام ہے۔ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اس گروہ نے اٹلی، جرمنی، جاپان، یونان اور ترکی میں اپنے مراکز یا رابطہ مقامات قائم کر رکھے تھے۔
یہ تمام تفصیلات تفتیشی ادارے کے ابتدائی مؤقف اور درج مقدمے پر مبنی الزامات ہیں۔ کسی ملزم کے خلاف الزام کا اندراج جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں ہوتا، اور حتمی ذمہ داری کا تعین عدالتی کارروائی اور شواہد کی جانچ کے بعد ہوگا۔ رپورٹ میں آصف علی یا دیگر نامزد افراد کا تفصیلی مؤقف شامل نہیں تھا۔
حوالہ ہنڈی سے مراد رسمی بینکاری چینلز سے باہر رقم منتقل کرنے کے غیر مجاز طریقے ہیں، جن کے خلاف پاکستان میں ایف آئی اے اور دیگر ادارے کارروائیاں کرتے ہیں۔ انسانی اسمگلنگ کے مقدمات میں بھی بیرون ملک موجود رابطہ کاروں اور پاکستان میں سہولت کاروں کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کی جاتی ہیں۔
ایف آئی اے نے اس کیس میں یونان کے liaison office سے ملنے والی معلومات کو گرفتاری کی بنیاد قرار دیا ہے، جس سے تحقیقات کے بین الاقوامی پہلو کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تفتیش آگے بڑھنے پر دیگر ملزمان کی گرفتاری، مبینہ مالی لین دین، متاثرہ افراد یا نیٹ ورک کے عملی طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آسکتی ہیں، تاہم فی الحال ان نکات پر کوئی غیر مصدقہ نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔
