ڈیرہ غازی خان: پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سرحد کے قریب ڈیرہ غازی خان میں پولیس کی دو چوکیوں پر ڈرون کے ذریعے بم گرائے گئے، تاہم پولیس کے مطابق بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسر صادق بلوچ نے بتایا کہ وہوا پولیس اسٹیشن کی حدود میں جھنگی اور لکھانی چوکیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ڈی پی او کے مطابق جھنگی چیک پوسٹ پر ڈرون سے تین بم گرائے گئے۔ ان میں سے ایک چوکی کی چھت پر گرا جبکہ دو عمارت کے باہر گرے۔ اسی طرح لکھانی چوکی پر دو بم گرائے گئے، جن میں ایک چھت اور دوسرا صحن میں گرا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اہلکاروں نے فوری ردعمل دیا اور حملہ آوروں کے خلاف جوابی کارروائی کی۔

لکھانی چوکی پر حملے میں ایک ملازم معمولی زخمی ہوا۔ پولیس کے مطابق جوابی فائرنگ یا کارروائی کے بعد حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا تاکہ حملہ آوروں کی تلاش اور ممکنہ معاونت یا مزید خطرات کا جائزہ لیا جاسکے۔

پولیس نے حملہ آوروں کو دہشت گرد قرار دیا اور ریاستی اصطلاح ”فتنہ الخوارج“ استعمال کی، جو پاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ جنگجوؤں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس شناخت اور وابستگی کی تفصیل پولیس کے مؤقف سے منسوب ہے؛ فوری طور پر کسی گروہ کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ڈرون کے ذریعے پولیس تنصیبات کو نشانہ بنانے کا یہ واقعہ اس لیے اہم ہے کہ حملہ آوروں نے روایتی فائرنگ کے بجائے فضائی طور پر دھماکا خیز مواد گرانے کی کوشش کی۔ پولیس کے بیان کے مطابق پانچ بم گرائے جانے کے باوجود صرف ایک اہلکار کو معمولی چوٹ آئی اور کسی بڑے جانی یا مادی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔

ڈیرہ غازی خان کا مغربی حصہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے ملحقہ راستوں کے قریب واقع ہے اور یہاں پولیس چوکیوں پر ماضی میں بھی سکیورٹی خطرات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ تازہ واقعے کے بعد جاری سرچ آپریشن کے نتائج یا کسی گرفتاری کے بارے میں ابتدائی رپورٹ میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔