اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ان سول سرونٹس کو ایک ہفتے کے اندر اپنی اور اپنے زیر کفالت افراد کی غیر ملکی یا دوہری شہریت سے متعلق مطلوبہ ڈیکلریشن جمع کرانے کی ہدایت کی ہے جنہوں نے مقررہ مدت گزرنے کے باوجود یہ معلومات فراہم نہیں کیں۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے وزارتوں، ڈویژنز، صوبائی چیف سیکریٹریز اور پولیس سربراہان کو بھیجے گئے دفتر یادداشت میں واضح کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں متعلقہ افسران کے خلاف قواعد کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے۔
یہ ہدایت سول سرونٹس (ڈسکلوزر اینڈ پروہیبیشن آف فارن اینڈ ڈوئل نیشنلٹی) رولز 2026 کے تناظر میں جاری کی گئی ہے۔ قواعد یکم جون کو سرکاری گزٹ میں شائع ہوئے تھے اور ان کے تحت سرکاری ملازمین کو 90 دن کے اندر اپنی اور زیر کفالت افراد کی شہریت، غیر ملکی سفری دستاویزات اور کسی غیر ملکی شہری سے شادی سے متعلق معلومات مقررہ فارم میں فراہم کرنا تھیں۔ اس حساب سے ابتدائی مدت یکم ستمبر کو ختم ہو گئی تھی۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے جولائی میں بھی محکموں کو اس ذمہ داری کی یاد دہانی کرائی تھی۔
تازہ مراسلے کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس، پولیس سروس آف پاکستان، سیکریٹریٹ گروپ اور آفس مینجمنٹ گروپ کے متعدد افسران نے اب تک مطلوبہ ڈیکلریشن جمع نہیں کرایا۔ مجاز اتھارٹی نے ایسے افسران کو مزید ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے بعد سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ قواعد میں غلط بیان یا معلومات نہ دینے کو بھی مس کنڈکٹ کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔
نئے قواعد کے تحت تقرری کے وقت بھی متعلقہ کیڈر ایڈمنسٹریٹر کو یہ بتانا لازم ہے کہ سرکاری ملازم یا اس کا کوئی زیر کفالت فرد غیر ملکی شہریت یا غیر ملکی سفری دستاویز رکھتا ہے یا نہیں۔ مقررہ موقع پر یہ معلومات نہ دینا یا غلط معلومات فراہم کرنا تقرری کے قانونی جواز پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سالانہ بنیاد پر بھی شہریت کی موجودہ حیثیت، نئی شہریت یا سفری دستاویز حاصل کرنے کے عمل اور متعلقہ خاندانی تبدیلیوں کی اطلاع دینا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
قواعد عمومی طور پر پیشگی منظوری کے بغیر سرکاری ملازم یا اس کے زیر کفالت فرد کو غیر ملکی شہریت یا سفری دستاویز کے لیے درخواست دینے سے روکتے ہیں۔ سفارتی تعیناتی سے متعلق بعض صورتوں میں مزید پابندیاں بھی رکھی گئی ہیں۔ غیر ملکی شہری سے شادی کے معاملات پر 1962 کے متعلقہ سرکاری قواعد بدستور لاگو رہیں گے۔
