کراچی: سندھ میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (MDCAT) کے نتائج اور answer keys جاری ہونے کے بعد سوالیہ پرچہ امیدواروں کو دستیاب نہ ہونے پر جانچ کے طریقہ کار سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں۔ 20 ستمبر کو ہونے والے امتحان میں صوبے بھر سے 33 ہزار سے زیادہ امیدوار شریک ہوئے تھے، جن میں کراچی کے 9 ہزار سے زائد امیدوار شامل تھے۔
سکھر آئی بی اے یونیورسٹی نے امتحان منعقد کیا، تاہم سوالیہ پرچہ بعد میں عام نہیں کیا گیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے 10 ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن میں امتحان لینے والی یونیورسٹیوں کو سوالیہ پرچہ جاری کرنے سے روکا تھا۔ اس لیے سوالیہ پرچہ نہ جاری کرنے کا فیصلہ صرف یونیورسٹی کی انفرادی پالیسی نہیں بلکہ ریگولیٹری ہدایت کے تناظر میں سامنے آیا۔
بعض امیدواروں کا کہنا ہے کہ صرف answer keys جاری ہونے سے وہ یہ مکمل طور پر نہیں جانچ سکتے کہ ان کے منتخب جوابات کی مارکنگ درست ہوئی یا نہیں، کیونکہ سوالات اور آپشنز کا اصل متن ان کے پاس موجود نہیں۔ یہ امیدواروں کی شکایت ہے؛ اس سے خود بخود نتائج میں غلطی ثابت نہیں ہوتی۔
MDCAT میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں داخلے کے لیے اہم امتحان ہے اور اس کے نمبر امیدواروں کی میرٹ پوزیشن پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اسی وجہ سے سوالیہ پرچے، answer keys اور اعتراضات کے طریقہ کار میں شفافیت امیدواروں اور والدین کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔
رپورٹ میں سامنے آنے والا بنیادی انتظامی نکتہ یہ ہے کہ PMDC نے امتحان سے دس روز قبل یونیورسٹیوں کو سوالیہ پرچے جاری نہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ سندھ میں اس ہدایت کے نفاذ کے بعد answer keys تو جاری ہوئیں، مگر اصل سوالیہ پرچہ دستیاب نہ ہونے کے باعث بعض امیدوار اپنے یاد رکھے گئے جوابات اور جاری کلید کے درمیان مکمل تقابل نہیں کر پا رہے۔
اس معاملے میں کسی عدالتی یا حتمی ریگولیٹری فیصلے کی اطلاع رپورٹ میں نہیں دی گئی۔ اسی طرح نتائج کو مجموعی طور پر غلط قرار دینے کا کوئی مصدقہ ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ موجودہ تنازع بنیادی طور پر امتحانی مواد کی دستیابی، امیدواروں کے verification کے حق اور PMDC کی پالیسی کے عملی اثرات سے متعلق ہے۔

