اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے پاکستان رینجرز کے 3 ہزار اہلکاروں کی اسلام آباد میں تعیناتی مزید دس روز کے لیے بڑھانے کی درخواست کی ہے۔ چیف کمشنر آفس کی جانب سے بھیجے گئے خط کے مطابق موجودہ تعیناتی 5 اکتوبر کو ختم ہونا تھی، جسے 15 اکتوبر 2026 تک بڑھانے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ درخواست پاکستان تحریک انصاف کے 4 اکتوبر سے اسلام آباد کی جانب مجوزہ لانگ مارچ کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ مارچ کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے داخلی راستوں اور اہم شاہراہوں پر سکیورٹی انتظامات بڑھائے ہیں، متعدد مقامات پر کنٹینرز رکھے گئے ہیں اور سندھ و پنجاب پولیس سے اضافی نفری بھی طلب یا تعینات کی گئی ہے۔

چیف کمشنر آفس کے خط میں کہا گیا کہ کمانڈ اسٹرکچر کے ساتھ 3 ہزار پاکستان رینجرز اہلکاروں کی اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس کے لیے فراہمی 5 اکتوبر سے 15 اکتوبر تک بڑھائی جائے۔ اس سے قبل وزارت داخلہ نے 20 ستمبر سے 5 اکتوبر تک رینجرز کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔

پہلے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز کی تعیناتی پاکستان رینجرز آرڈیننس 1959 کی متعلقہ دفعات اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت منظور کی گئی تھی۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ تعینات اہلکار مجاز حکام کی ہدایات کے مطابق قانونی فرائض انجام دیں گے اور کسی خطرے یا پرتشدد سرگرمی کی صورت میں مروجہ قواعد کے تحت دفاعی ردعمل دے سکتے ہیں۔

وزارت داخلہ کی سابقہ ہدایات میں پولیس اور رینجرز کو مسلح یا پرتشدد حملوں کی صورت میں قانون اور قواعد کے مطابق ضروری جوابی اقدامات کی اجازت کا ذکر بھی موجود تھا۔ دوسری طرف وفاقی دارالحکومت میں اجتماعات پر Peaceful Assembly and Public Order Act 2024 کے تحت پابندی نافذ ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔

پی ٹی آئی کا مجوزہ مارچ ایک سیاسی تنازع کا حصہ ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔ اس خبر میں صرف انتظامی اور سکیورٹی پیش رفت بیان کی گئی ہے: یعنی اسلام آباد انتظامیہ نے موجودہ رینجرز تعیناتی میں دس روز کی توسیع مانگی ہے۔ درخواست کی حتمی منظوری وزارت داخلہ یا متعلقہ مجاز اتھارٹی کے فیصلے سے مشروط ہوگی۔