وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے پاکستان اور خطے کے ڈائریکٹر سائمن اینڈریوز سے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں پاکستان میں نجی سرمایہ متحرک کرنے، کاروباری شعبے کی ترقی اور مالیاتی خدمات تک رسائی بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔ وزارت خزانہ کے سرکاری بیان کے مطابق آئی ایف سی کی پرنسپل کنٹری افسر ناز خان بھی ملاقات میں شریک تھیں۔

وزیر خزانہ نے پاکستان میں نجی شعبے کی فنانسنگ اور سرمایہ کاری پر مبنی نمو کے لیے آئی ایف سی کے تعاون کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروباری سرگرمی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، زرعی فنانس، سستی رہائش اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کو ایسے شعبے سمجھتی ہے جہاں نجی سرمایہ زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

محمد اورنگزیب نے حکومت کے مؤقف کے مطابق حالیہ میکرو اکنامک استحکام اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگلا مرحلہ ان عوامل کو حقیقی سرمایہ کاری، سرمایہ تشکیل اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی میں تبدیل کرنا ہے۔ یہ بیان حکومتی پالیسی ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے؛ اس ملاقات میں کسی نئے مخصوص قرض، سرمایہ کاری پیکیج یا حتمی مالیاتی معاہدے کی رقم کا اعلان نہیں کیا گیا۔

آئی ایف سی عالمی بینک گروپ کا وہ ادارہ ہے جو ترقی پذیر معیشتوں میں نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور فنانسنگ پر توجہ دیتا ہے۔ پاکستان میں اس کا کردار بینکنگ، بنیادی ڈھانچے، توانائی، کاروباری فنانس اور سرمایہ کاری کے مختلف منصوبوں تک پھیلا ہوا ہے۔ تازہ ملاقات میں جاری اور ممکنہ تعاون دونوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین موجودہ منصوبوں کے ساتھ نئے مواقع کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

پاکستان کے لیے نجی سرمایہ متحرک کرنا اس لیے اہم ہے کہ سرکاری مالی وسائل محدود ہیں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں، رہائش، زرعی پیداوار اور چھوٹے کاروباروں کو اضافی سرمایہ درکار ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے حکومت بعض منصوبوں میں نجی سرمایہ اور انتظامی مہارت شامل کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، تاہم ہر منصوبے کی مالیاتی ساخت، خطرات اور سرکاری ذمہ داریاں الگ طور پر طے ہوتی ہیں۔

وزارت خزانہ کے بیان میں کسی حتمی معاہدے پر دستخط کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اس لیے ملاقات کا بنیادی نتیجہ پالیسی اور تعاون کے شعبوں کی نشاندہی ہے، جبکہ مستقبل میں کسی مخصوص آئی ایف سی سرمایہ کاری یا فنانسنگ کو الگ منظوری، دستاویزات اور باضابطہ اعلان درکار ہوگا۔