وفاقی وزارتِ خزانہ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کے ٹیکس نظام کو جدید، نسبتاً سادہ اور معاشی نمو کے لیے زیادہ سازگار بنانے سے متعلق دو روزہ اعلیٰ سطحی ورکشاپ 20 اور 21 اکتوبر کو اسلام آباد میں منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ورکشاپ کا عنوان ’’Reforms for a Modern and Growth-Friendly Tax System in Pakistan‘‘ رکھا گیا ہے اور اس میں حکومتی حکام، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے نمائندے، بین الاقوامی ٹیکس ماہرین، ماہرینِ تعلیم اور نجی شعبے کے نمائندے شریک ہوں گے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق پروگرام کو چھ اہم موضوعاتی نشستوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ان میں ٹیکس اور اقتصادی نمو کے باہمی تعلق، پاکستان کے ٹیکس نظام کی جدید کاری، وفاق اور صوبوں کے درمیان زیادہ مربوط سیلز ٹیکس نظام، نسبتاً سادہ اور غیر جانب دار انکم ٹیکس ڈھانچے، ٹیکس انتظامیہ اور ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ ٹیکس دہندگان کے اعتماد، اور مالی وفاقیت و صوبائی محصولات کے معاملات شامل ہیں۔
ورکشاپ کا مقصد فوری طور پر کسی نئے ٹیکس یا شرح کا نفاذ نہیں بلکہ اصلاحاتی ترجیحات پر پالیسی سطح کی گفتگو کرنا ہے۔ سرکاری بیان میں کسی مخصوص ٹیکس شرح میں تبدیلی، کسی نئی قانونی ترمیم یا فوری نفاذ کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اس سرگرمی کو ٹیکس پالیسی اور انتظامی اصلاحات کے لیے مشاورتی مرحلہ سمجھا جانا چاہیے، جس کے بعد کسی عملی فیصلے کے لیے الگ حکومتی یا قانونی عمل درکار ہو سکتا ہے۔
پاکستان میں محصولات بڑھانے، ٹیکس نیٹ وسیع کرنے، وفاقی اور صوبائی ٹیکس نظام میں ہم آہنگی اور ٹیکس انتظامیہ کی ڈیجیٹلائزیشن طویل عرصے سے معاشی اصلاحات کے مرکزی موضوعات رہے ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق اس ورکشاپ میں بین الاقوامی تجربات اور ملکی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایسے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوگا جو ٹیکس نظام کی کارکردگی بہتر بنانے کے ساتھ پائیدار اقتصادی نمو میں اس کے کردار کو مضبوط کر سکیں۔ نجی شعبے اور ماہرین کی شمولیت سے پالیسی تجاویز کے عملی اثرات اور کاروباری ماحول سے متعلق تحفظات بھی گفتگو کا حصہ بننے کی توقع ہے۔
