اسلام آباد میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور امریکا کی ناظم الامور نٹالی اے بیکر کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور امریکا کے اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے، زیرِ مذاکرات دوطرفہ تجارتی معاہدے پر پیش رفت تیز کرنے اور ایک دوسرے کی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ وزارتِ اطلاعات کے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ملاقات میں زراعت، معدنیات، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع بھی زیرِ بحث آئے۔

سرکاری بیان کے مطابق وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے تجارت و صنعت رانا احسان افضل خان، سیکریٹری تجارت جواد پال اور وزارتِ تجارت کے دیگر سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک تھے۔ جام کمال خان نے گفتگو کے دوران امریکا کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ اقتصادی شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ اسلام آباد باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

ملاقات میں جاری تجارتی مذاکرات کے ساتھ زرعی مصنوعات کی برآمدات اور مارکیٹ تک رسائی کے معاملات پر بھی توجہ دی گئی۔ دونوں فریقوں نے معدنی وسائل اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں ممکنہ تعاون پر گفتگو کی، جہاں سرمایہ کاری اور کاروباری روابط بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔ سرکاری اعلامیے میں کسی حتمی تجارتی معاہدے، نئے ٹیرف یا فوری طور پر نافذ ہونے والی کسی مخصوص رعایت کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ملاقات کو مذاکراتی عمل اور اقتصادی تعاون بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، نہ کہ کسی مکمل معاہدے کی منظوری کے طور پر۔

پاکستان کے لیے امریکا اہم برآمدی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے اور حکومت حالیہ عرصے میں برآمدات بڑھانے، بیرونی سرمایہ کاری لانے اور تجارت کو معاشی نمو سے جوڑنے پر زور دیتی رہی ہے۔ 20 اکتوبر کی یہ ملاقات اسی وسیع تر پالیسی تناظر میں ہوئی۔ دونوں جانب سے زیرِ بحث شعبوں میں عملی پیش رفت کا انحصار آئندہ مذاکرات، متعلقہ قواعد اور کاروباری سطح پر طے ہونے والے انتظامات پر ہوگا۔