پاکستان کی مالی سال 2025-26 کی مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو پر نظرثانی کے بعد اسے 3.65 فیصد قرار دیا گیا ہے، جس سے واضح ہوا کہ معیشت مقررہ سالانہ ہدف حاصل نہیں کر سکی۔ قومی اکاؤنٹس کمیٹی کے منظور کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کی آخری سہ ماہی، اپریل سے جون 2026، میں معاشی نمو تقریباً 2 فیصد رہی۔ سرکاری اعداد و شمار میں صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی نسبتاً کمزور رفتار کو مجموعی نمو پر دباؤ کی اہم وجوہ میں شمار کیا گیا ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے حوالے سے سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق گزشتہ مالی سال کی چوتھی سہ ماہی میں بلند تقابلی بنیاد بھی موجود تھی، کیونکہ ایک سال پہلے اسی مدت میں نمو 6.1 فیصد رہی تھی۔ تازہ سہ ماہی میں صنعتی شعبہ سکڑاؤ کا شکار رہا، جس نے زراعت اور دیگر شعبوں سے حاصل ہونے والی پیش رفت کے اثر کو محدود کیا۔ قومی اکاؤنٹس کمیٹی معیشت کے مختلف شعبوں کے ڈیٹا کا جائزہ لے کر سالانہ اور سہ ماہی قومی کھاتوں کی منظوری دیتی ہے، اس لیے یہ نظرثانی پاکستان کی سرکاری معاشی تصویر کے لیے اہم ہے۔

اجلاس میں درآمدی اعداد و شمار کی سابقہ برسوں کے لیے نظرثانی بھی منظور کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق پانچ مالی سالوں، جون 2025 تک، کے درآمدی ڈیٹا میں مجموعی طور پر 14.8 ارب ڈالر کا اضافہ کیا گیا تاکہ پہلے موجود ڈیٹا فرق کو درست کیا جا سکے۔ اس تبدیلی کا تعلق تجارتی اعداد و شمار کے تاریخی ریکارڈ سے ہے اور اس کے اثرات قومی کھاتوں کے حساب میں بھی شامل کیے گئے ہیں۔

معاشی نمو کا 3.65 فیصد رہنا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان مالی استحکام، بیرونی ادائیگیوں، توانائی لاگت اور سرمایہ کاری کی کمزور رفتار جیسے دباؤ سے نمٹ رہا ہے۔ فی کس آمدن اور نجی سرمایہ کاری کی رفتار بھی پالیسی سازوں کے لیے اہم چیلنج ہیں۔ نظرثانی شدہ اعداد و شمار سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ ہر شعبہ یکساں طور پر کمزور رہا؛ البتہ مجموعی تصویر یہ ظاہر کرتی ہے کہ صنعتی سست روی نے سالانہ ہدف تک پہنچنے میں رکاوٹ ڈالی۔ آئندہ مالی سال میں پائیدار بلند نمو کے لیے سرمایہ کاری، برآمدات اور پیداواری شعبوں کی بحالی کلیدی عوامل رہیں گے۔